مسلمانو ! میں یمن ہوں۔۔۔
شام سے کم نہیں ہوں مگر
تحریر:منصور الدین فریدی
مسلمانو ! میں یمن ہوں! ناقابل شناخت، لہولہان یمن، زخموں سے چور، ،درد اور کرب کا مجموعہ، ہر گھر قبرستان ہے اور ہر قبرستان گھر۔صحرا میں ریت کم ہے اور ملبہ زیادہ،اب مکانات ملبے کے پہاڑ ہیں۔دور دور تک انسانیت کا نام و نشان نہیںصرف ظلم ہی ظلم ہے اور کچھ نہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجا ئی جارہی ہے،لاشوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں ،مرنے والوں میں بچے بھی ہیں ، عورتیں بھی اوربزرگ بھی ۔ مگر افسوس میرے لئے کوئی آنسو بہانہ کو تیار نہیں ۔کوئی میرے لئے آواز اٹھانے کو تیار نہیں،کوئی میرے لئے سامنے آنے کےلئے تیار نہیں۔آخر کیوں؟
مسلمانو! کیا یمن کی چھاتی پر برسنے والے بم شام کی سرزمین پر گرائے جانے والے بموں سے کم خطرناک ہیں؟ کیا اس بمباری میں مرنے والے بچے”انسان“ نہیں؟ کیا یمن میں انسانی بحران نہیں ہے؟کیا یہ جنگ ”انسانی خدمت “ ہے؟ کیا فرق ہے یمن اور شام کی جنگ میں جو عالم اسلام کی زبان پر بس شام ہی شام ہے ،کوئی یمن کے بارے میں بات کرتا ہے نہ یمن کے بارے میں جاننا چاہتا ہے؟کیا وجہ ہے جو کسی مسلم ملک میں یمن میں مظالم کے خلاف کوئی جلوس نکل رہا ہے نہ مظاہرہ ہورہا ہے؟
مسلمانو ! کیا ہے اس کا راز کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر یمن کا نام لینے والا کوئی نہیں؟سوشل میڈیا پریمن کی تصاویر اور ویڈیو کا سیلاب کیوں نہیں آتا؟میڈیا کیوں نہیں بتا رہا ہے کہ ”غریب“ یمن کس جرم کی سزا پا رہا ہے؟کہاں مر گئی دنیا کی وہ انسانیت جو صرف شام کے نام پر پیدا ہوتی ہے؟کہاںہیں انسانیت کے وہ علمبردار جو شام میں بچوں کی لاشوں کو دیکھکر بشارالاسد پر لعنت بھیجتے ہیں؟ یمن کی لاشوں کو دیکھ کر کوئی کسی پر لعنت کیوں نہیں بھیجتا ہے؟
مسلمانو ! ذراسوچو۔آخر دنیا شام میں ہی کیوں الجھی ہوئی ہے؟ کیوں یمن کی جانب نہیں دیکھتی ہے؟اسی میں پوشیدہ ہے ہر سوال کا جواب ۔
جاگو مسلمانو !جاگو! اللہ نے عقل سلیم عطا کی ہے تواس کا استعمال کرو۔دوست اور دشمن کی پہچان کرو۔اس کھیل اوراس سازش کو سمجھو۔ خود فیصلہ کرو۔ خود دل پر ہاتھ رکھ کرسوچو اور دماغ چلاﺅ ،آخر یہ کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ ہم جو دیکھ رہے ہیں اس میں کیا صداقت ہے ؟ اور جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اس کی سچائی کیا ہے؟
میرا سینہ چاک ہے؟
مسلمانو!میں پریشان ہوں ،حیران ہوں،صدمے میں ہوں ۔جو کل تک میرا مسیحا تھا وہی آج قاتل ہے۔میں نے بڑے بڑے حملے سہے ہیں،میرا سینہ چاک ہوگیا ہے،مگر میں زندہ ہوں،لڑ رہا ہوں ،کبھی خود کو بچاتا ہوں تو کبھی پلٹ کے وار کرتا ہوں۔یہ موت اور زندگی کی جنگ ہے مگر میں نے بھی قسم کھائی ہے کہ جس طاقت نے یمن کے بچو ں کو موت کی نیند سلایا ہے ،جس نے بچوں کو یتیم بنایا ہے اور جس نے بچوں کو بے گھر بنایا ہے اس کی ”ٹانگ “نہیں چھوڑوں گا،وہ بچ کر بھاگ نہیں سکے گا ،اس سے خون کی بوند بوند کا حساب لوں گا۔دنیا کو بتاﺅں گا کہ میں یمن ہوں اور شام سے کم نہیں ہوں ،اس لئے میں بھی توجہ کا مستحق ہوں اورہمدردی کا طلبگار ہوں۔ شام میں تباہی کےلئے سب اسد کو کوس رہے ہیں اسی طرح میری حالت کےلئے بھی کوئی” کسی “کو کیوں نہیں کوس رہا ہے؟
مسلمانو !کیا دکھاﺅں اور کیا نہ دکھاﺅں؟ہر زخم کھلا ہے،ہر زخم رس رہا ہے ،ہر زخم تڑپا رہا ہے۔ہر زخم کی ایک کہانی ہے ،ہر زخم اب ایک ناسور ہے ،ان کواب کوئی مرہم نہیں بھر سکتا،اس کو آپ کی ہمدردی چاہیے ،آپ کی توجہ درکار ہے۔کیونکہ ان زخموں کےلئے سب سے بڑا درد یہی ہے کہ انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں۔ میرے زخم کسی کو نظر نہیں آتے،کوئی دکھانے کو تیار ہے اور نہ کوئی دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔سب کے دل ودماغ پر بس شام کا بخار ہے۔میں نہیں کہتا ہوں کہ شام میں کچھ نہیں ہورہا ہے ،یقینا شام میں 8سال سے زندگی سہمی پڑی ہے اورموت کی حکمرانی ہے مگر میری بھی تو یہی کہانی ہے ،مجھے بھی تو کوئی طاقت نوچ رہی ہے ،کھسوٹ رہی ہے اورمسل رہی ہے ۔کیا یہ طاقت ”قابل مذمت “ نہیں ؟کیا اس کو ”شیطانی “ نہیں کہا جاسکتا ہے؟کیا میں اس کا بھی حقدار نہیں کہ مجھ پر مظالم ڈھانے والے کے خلاف آواز اٹھا سکوں؟
اگر آپ شام کے زخم دیکھ سکتے ہیں اور اس کے کرب پر آہ بھر سکتے ہیں توپھرمیرا کیا قصور ہے؟
یہ انگنت زخم
مسلمانو!میری کہانی شام سے مختلف نہیں بلکہ بری ہے۔میں اپنے گہرے زخم کیسے اور کسے دکھاﺅں ؟میرے سینہ نہیں زخموں کی کھائی ہے ،ایک بار اس ماں اتر گئے تو باہر نہیں آ پاﺅ گے مسلمانو!۔میں نے شادی کی تقریب کو بارود کے گولہ میں سمٹتے ہوئے دیکھا ہے،شادی کے جشن کو پل بھر میں ماتم میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے،میں دولہا اور دولہن کو پھولوں کے بجائے خون میں لپٹا ہوا دیکھا ہے۔28 ستمبر 2015کو مخاشہر کے ساحلی حصے میں شادی کی ایک تقریب کو صرف اس لئے بموںکی سوغات دی گئی کہ محفل میں حوثی اورانصار اللہ کی کچھ اہم قیادت کے شریک ہو نے کی امید تھی ،جس میںدولہا اور دلہن سمیت 152افراد بشمولبچے مارے گئے تھے مگر کسی کا کلیجہ باہر نہیں آیا ۔بات شادی تک محدود نہیں رہی ،نماز جنازہ کو بھی لاشوں کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔یہ 9اکتوبر 2016 کا دن تھا جب یمنی وزیر داخلہ علی رویشیان کے والد کی نماز جنازہ تیار تھی اور اسی دوران وحشیانہ حملوں میں 161عورتوں اور بچوں سمیت مارے گئے جبکہ 525کے قریب افراد زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے تھے۔
مسلمانو !کیا بھول گئے کہ اس حملے کے بعد شیطان اعظم امریکا نے اس اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دیدی تھی جس کے بعدعالمی دباو اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے سامنے ”خدائی خدمت گار‘ ‘ نے صرف اتنا کہا تھا کہ یہ بمباری غلط معلومات کی بنیاد پر انجام پائی تھی۔کیا اہل یمن کا خون خون نہیں ؟کیا شام اور یمن میں الگ الگ مخلوقات رہتی ہیں ؟کیوں دنیا نے انسانیت سوز حملوں کے خلاف اس طاقت کے کان نہیں مروڑے؟ کیا یمن کے بچے انسان نہیں ؟کسی کا دل نہیں تڑپا؟کسی نے سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیو پوسٹ کرکے اپنی انسانیت کے علمبردار ہونے کا دعوی پیش نہیں کیا۔
مسلمانو !میرے درد کی کہانی کا دوسرا سرا نہیں مل پائے گا،26 مارچ 2015 کی صبح سعودی عرب نے یمن کے مستعفی صدر کی حمایت اور یمن میں انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو بہانہ بنا کر حملہ کیا تھا۔ ہوائی، بحریی اور زمینی حملوں نے یمن کو ویرانے میں تبدیل کردیا۔کبھی کارخانے کے مزدروں پر بمباری کی گئی ،کبھی جمعہ بازار اور کاشتکاروں پر بمباری ، کبھی امدادی تنظیم کے اسپتال پر بمباری کی،1000مساجدشہیدہوچکی ہیں، لاکھوں بچوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔جنگ سے قبل بھی میرا پیٹ بھرنے کےلئے 90 فیصد خوراک درآمد کی جاتی تھی۔اب بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور فضائی ناکہ بندی نے بھکمری کا شکار ہوں۔مگر کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔
آنکھیں کھول لو !
مسلمانو! شام اگر عالم اسلام کےلئے ایک درد ہے تو میںایک کرب ہوں۔مجھے میڈیا اور سوشل میڈیا نے کسی لائق ہی نہیں سمجھا ہے کیونکہ میری کہانی کی اسکرپٹ مغرب نے ریلیز ہی نہیں کی ہے،سب کو حکم ہے شام کا رخ کرکے کھڑے ہونے کا۔ہمدردی ،انسانیت اور رحم دلی سب شام کے حصے میں ہے کیونکہ میرا خون خون نہیں پانی ہے۔ ماضی میں حلب سے غوطہ تک شور مچانے کا سبب انسانی ہمدردی سے زیادہ سیاسی رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ وقفے وقفے سے جب ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو ایک مصنوعی شور مچایا جاتا ہے ۔دنیا کی توجہ شام میں مرکوز ہوجاتی ہے اور میں لاوارث ہی رہ جاتا ہوں۔ 2017 میں عرب دنیا کی سب سے غریب سرزمین پر 70 لاکھ افراد کو قحط کا سامنا ہے جبکہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔یہ جنگ کی دین ہے۔ایک ایسی جنگ جس میں یک طرفہ حملوں کا دور جاری ہے۔دنیا تھو تھو کررہی ہے،اس طاقت کی عزت اور رتبہ ہر دن گھٹ رہا ہے جس کے سبب اس پر خوف سوار ہے کہ عالم اسلام میں اب قائد کا کردار بدل جائے گا۔جس کے سبب کل تک خیرات اور امداد سے ثواب کمانے والی طاقت نے بموں سے اپنا لوہا منوانا شروع کیا ہے مگر قسم ہے مسلمانو!یہ طاقت یمن میں دفن ہوگی۔یہ جنگ سے دامن چھڑا کر بھاگنے کا زور لگا ئے گی مگر اس کو راست نہیں ملے گا،یہی اس پر اللہ کی مار ہوگی ۔ایک دن ایسا آئے گا جب یہ طاقت جنگ سے توبہ کرے گی،راہ فرار تلاش کرے گیاور سفید پرچم لہرائے گی مگر جنگ کا آسیب اس کے دامن کو اس طرح پکڑ لے گا کہ اس کا دم گھٹے گا۔
مسلمانو! ابھی وقت ہے آنکھیں کھول لو۔یہ شیعہ سنی کا ٹکراﺅ نہیں یہ تیل کی جنگ ہے ،مغرب کے ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کا طریقہ ہے،یہ مغرب کے مفادات کےلئے اہل ایمان کے خون بہانے کا جنون ہے،یہ تخت بچانے کا کھیل ہے ،یہ تاج کو بچانے کی سیاست ہے ، یہ بادشاہت کی دراز عمری کانسخہ ہے۔اس میں عالم اسلام کا کوئی مفاد نہیں بس مغرب کی وفاداری کا سوال ہے۔اپنے تخت وتاج کی سلامتی کی ضمانت کا معاملہ ہے۔مسلمانو! یہ میری التجا ہے اوریہ میری فریاد ہے ،خدا کےلئے میری جانب بھی دیکھئے۔میری آغوش میں بھی انسان بسے ہیں،وہ بھی ظلم کا شکار ہیں،وہ بھی توجہ کے مستحق ہیں،وہ بھی انصاف کے طلبگار ہیں،وہ بھی دنیا میں میڈیا اور سوشل میڈیا میں ہمدردی کے سیلاب کے خواہشمند ہیں،میں یہ نہیں کہتا کہ آپ شام کو بھول جائیں مگر میں چاہتا ہوں کہ آپ شام کے ساتھ مجھے بھی یاد رکھیں،میری کمر توڑنے والے کو بھی کوئی کوسے۔میرے بچوں کی لاشوں پر بھی دنیا آنسو بہائے ۔بے شک !میں دل برداشتہ ہوں مگر مایوس نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں ”مایوسی کفر ہے“ اور۔۔ اِنَّ اللہ مَعَ الصَّابِرینَ۔









