تصاویراورویڈیو کا سیلاب-شام کےخلاف امریکی جال   

       جس میں پھنس گیا    مسلمان            

       !اے مسلمانو

کیا پھر پھنس گئے جال میں؟ 
پھر امریکا ،اسرائیل اور سعودی عرب کے جھانسے میں آگئے ؟
کیا ایک بار پھر پروپگنڈہ کے چکر ویو کا شکار ہوگئے؟
کیا پھر سے بیوقوف بن رہے ہو مسلمانو؟
اگر ایسا نہیں تو پھرہر کوئی کیوں کوس رہا ہے بشار الاسدکو،شام میں اسد حکومت کے خاتمہ کی دعائیں کیوں مانگی جارہی ہیں، کیوں اسد کوشیطان اعظم قرار دیا جارہا ہے،کیوں حیوان کہا جا رہا ہے اورکیوں درندہ کہا جارہا ہے؟کیوںسب کی نظر میں اسد انسانیت کےلئے خطرہ بن گئے؟آخر کس بنیاد پراسد کو ”قاتل “اور ”درندہ“ مان لیا گیا ہے؟کیا شام کی تصاویر اور ویڈیو کا سیلاب حقیقی ہے؟کیا واقعی یہ مناظر شام کے ہیں؟جی نہیں!ایسا نہیں ہے،سب گول مال ہے،سب دھوکہ ہے،سب ایک سازش ہے۔اس کا مطلب یہ ہے مسلمانو!تم امریکی پروپگنڈہ کے جال میں پھنس گئے ہو، شام کے نام پر نامعلوم تصاویر اور ویڈیو کا تبادلہ اس طرح کررہے ہو گویا جہاد ہو۔کوئی نہیں جانتا کہ راتوں رات کہاں سے شام کی تصاویر اور ویڈیو ز کی بارش ہونے لگی؟اگر تباہ حال علاقوں میںبجلی نہیں اور انٹر نیٹ نہیں تو یہ معیاری ویڈیو اور تصاویر کہاں سے آرہی ہیں؟مگر عالم اسلام پر جنون طاری ہے ،آہ وبکا کا عالم ہے ،سینہ کوبی ہورہی ہے اور شام کے صدر بشار الاسدکو کوسا جارہا ہے ،ان کی حکومت کی تباہی کی دعاﺅں پر سوشل میڈیامیں اہل ایمان ”امین ۔۔امین “لکھ رہے ہیں۔
 جاگو مسلمانو ۔۔جاگو! 
ہم پروپگنڈہ کے جال میں پھنس چکے ہیں،ہمیں اب وہی نظر آرہا ہے جو اسرائیل اور امریکا دکھانا چا ہ رہا ہے اور وہی سنائی دے رہا ہے جو امریکا اور اسرائیل کی آواز ہے،ہمارا دماغ کچھ سوچنے اور سمجھنے کےلئے تیار نہیں یا اس کا اہل نہیں ۔کہتے ہیں عوام کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے اور وہی ہورہا ہے۔عراق کو کیسے بھول گئے مسلمانو!کیا اب یہ یاد نہیں رہا کہ جنگ عراق سے قبل ایسا ہی کچھ صدام حسین کے خلاف ہوا تھا،انہیں انسانیت کےلئے خطرہ بنادیا گیا تھا،انہیں شیعوں کےلئے موت ثابت کیا گیا تھا ،انہیں کردوں کےلئے عذاب بتایا گیا تھا،انہیں کویت اور دیگر عرب ممالک کےلئے مصیبت ٹھرایا گیا تھا۔
کچھ یاد آیا اے مسلمانو!وہ بھی پروپگنڈہ جنگ تھی جس میں مغرب جیتا تھا،صدام حسین کو حکومت سے بے دخل نہیں کیا گیا بلکہ انہیںاپنوں کے ہی ہاتھوںپھانسی کے پھندے پر پہنچا یا تھا۔ کیا لیبیا کو بھی بھول گئے جہاں معمر قدافی کوبھی بغاوت کے نام پر اپنوں کے ہاتھوں دوسری دنیا روانہ کردیا گیا۔اب اسد کےلئے بھی وہی نسخہ استعمال ہورہا ہے اور مسلمان ایک بار پھر طاقتور میڈیا اور سوشل میڈیاکے جال میں پھنس چکا ہے۔
 اے مسلمانو!ذرا سمجھو۔۔غور کرو۔۔عقل سلیم کا استعمال کرو۔۔شام میں بھی عراق اور لییا کی کہانی دوہرانے کی تیاری ہے، اسد کے خلاف نفرت کا ماحول بنایا جاچکا ہے،شکاری تاک میں ہیں، بس موقع کا انتظار ہے۔یہ سازش ہے صہیونی،اس میں امریکا ہے کھلاڑی اور سعودی عرب کی ہے دلالی۔سب پروپگنڈہ جنگ کی جھلک ہے ایک ایسی پروپگنڈہ جنگ جو دنیا کے دماغ بدل دے گی ،سوچ بدل دے گی،نظریہ تبدیل کردے گی،دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنادےگی۔جس میں امریکا کا میڈیا سب سے بڑا کردار ادا کررہا ہے۔پردے کے پیچھے سی آئی اے ہے اور موساد ہے۔شام میں قیامت کے ثبوت امریکا سے آرہے ہیں،غزہ کی تصاویر اور حلب کے ویڈیو ہاتھوں ہاتھ نکل رہے ہیں ۔یہ تصاویر اور ویڈیو ایسی ہیں جو آنکھیں کھولنے کے بجائے عقل پر پردہ ڈال رہی ہیں۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کررہی ہیں اورآنکھیں موند کر مسلمان اسد کی زوال کےلئے سجدے میں دعا مانگ رہے ہیں۔امریکا ہنس رہا ہے اور اسرائیل تماشہ دیکھ رہا ہے تو سعودی عرب اپنا خواب سچ ہونے کا انتظار کررہا ہے۔اے مسلمانو !ہم سب پروپگنڈے کا شکار ہورہے ہیں،جاگ جاﺅ ،ہوش کے ناخن لو،سوچو شام میں کس کا کیا مفادہے؟کیا ایسی تباہی صرف اور صرف شام میں ہی برپا ہے؟کہیں اور بمباری نہیں ہورہی ہے؟ کہیں اور بے قصور نہیں مر رہے ہیں؟
کیوں بھول گئے یمن کو؟
اے مسلمانو!حلب یاد ہے ،موصل یاد ہے اور غوطہ تو ابھی دل ودماغ پر سوار ہے مگر کبھی سوچا ہے کہ یمن کا کیا حال ہے؟کسی نے یمن کی تصاویر اور ویڈیو کیوں نہیں شیئر کئے؟ کیوں نہیں سوشل میڈیا پر ان کا سیلاب آیا؟ کیوں اقوام متحدہ میں راتوں رات جنگ بندی کےلئے کوئی تجویز پیش کی گئی؟جو یمن میں سعودی عرب کی بمباری میں مر رہے ہیں کیا وہ بچے اور عورتیں نہیں ہیں ؟شیعہ سنی کا شور مچا ہے اور کام مغرب کررہا ہے۔افسوس ہے یمن پر سعودی عرب قہر ڈھا رہا ہے تو سب خاموش ہیں، یہ ایک المیہ ہے۔کیوں مسلمانو !جواب دو ! یمن کا درد الگ ہے کیا؟ جو لوگ یمن میں مارے جارہے ہیں ان کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے کیا؟ کیوں سب کو سانپ سونگھ گیا ہے؟ سعودی عرب شیعوں کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اس لئے یمن کی جنگ موضوع بحث نہیں؟یہ کیسی بے حسی ہے ؟ کون ہے اس کا ذمہ دار ؟ کیا یہ مسلکی منافرت ہے جو شام کو قربانی کا بکرا بنانے کی تیاری کررہی ہے۔کیوں کسی کے دل میں یمن کےلئے انسانیت جاگ رہی ہے؟کیوں یمن کی تصاویر کسی کا کلیجہ باہر نہیں لا رہی ہیں؟کیوں مغرب نے یمن میں جنگ بندی کےلئے کوئی تجویز پیش نہیں کی ؟کیونکہ یمن میں سعودی عرب آگ بھڑکا رہاہے اور اس کے مفاد میں امریکا اور اسرائیل کا مفاد ہے ؟
 اے مسلمانو!ابھی وقت ہے ۔ہوش میں آجاﺅ،اس پروپگنڈہ کے جال سے باہر آجاﺅ۔جب کوئی شام کی تصاویر دکھائے تو اس سے یمن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرو۔یہ اتنا خطرناک پروپگنڈہ ہے کہ اس سے بچ پانا مشکل ہوگا مگر کوشش توکرنی ہوگی۔مسلمانوں کو اس بات کا احسا س دلانا ضروری ہوگا کہ شیعہ سنی ٹکراﺅ کے پیچھے شیعہ ہیں نہ سنی ۔یہ تو وہ طاقت ہے جو اس کے نام پر عالم اسلام کی کمر توڑ رہی ہے ،اس لئے ہر اس بات میں شیعہ سنی نظریہ کو نہ لائیں۔شام میں جوکچھ ہورہا ہے اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں ننگی ہیں مگریمن میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے بارے میںکسی طاقت کو کوئی درد نہیں ۔سوچو !مسلمانو۔ایسا کیوں ہورہا ہے؟ہم کیوں اور کیسے پھنس رہے ہیں دھوکہ کے جال میں؟
کھیل ہے شیطانوں کا
اے مسلمانو!دشمن جانتا ہے کہ تم جذباتی ہو،تم کو اکسانا ،بھڑکانا اور گمراہ کرنا آسان ہے،بات درد اور کرب کی ہوتی ہے تو تمہاری آنکھوں سے آنسو رواں دواں ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شام کے نام پر ہم کو بھٹکایا جارہا ہے۔ان تصاویر اور ویڈیو کے پیچھے چھپا ہے اسد کی موت کا کھیل ۔کوئی سوال کرو بھائی۔اگر بچوں کی لاشوں کے ڈھیر ہیں تو عورتیں کہاں ہیں؟ عام طور پر گھروں میں بچے اور عورتیں ایک ساتھ ہی ہوتے ہیں اگر بمباری میں بچے مررہے ہیں تو عورتیں کہاں گئیں؟کیا یہ بم کچھ خاص ہیں جو صرف بچوں کو ہی مارتے ہیں؟ ملبے میں سے صرف بچے ہی نکالے جاتے ہیں؟یا ملبے میں صرف بچے ہی ہوتے ہیں؟
2013میں بھی غوطہ میں بمباری کے بعد اقوام متحدہ نے ایک انکوائری کی تھی مگر اس میں جتنے سوالوں کے جواب ملے اس سے زیادہ سوال پیدا ہوگئے تھے اور انکوائری کے بعد بھی یہ بات ثابت نہیں ہوسکی تھی کہ بمباری باغیوں نے کی تھی یا اسد حکومت نے؟مرنے والے بچے کس کے تھے؟ کہاں رہتے تھے اور کہاں دفن ہوئے تھے؟
جاگو ۔اے مسلمانو!اگر غوطہ میں بمباری کے بعد امریکا نے اقوام متحدہ کا رخ کیا تھا اور غوطہ میں جنگ بندی کا نعرہ لگایا تھا تو اس کا مقصد معصوم بچوں کو بچانا نہیں تھا بلکہ غوطہ میں پھنسے ہوئےباغی نہیں بلکہ دہشت گردوں کو منظم کرنے کےلئے موقع دینا تھا مگر یہ تو اللہ بھلا کرے روس کا جس نے غوطہ میں دہشت گردوں کے منصوبوں کو پنپنے سے قبل ہی کچل دیا۔یہی وجہ ہے کہ روس کا کہنا تھا کہ اگر شام میں فائر بندی کرنی ہے تو پھر پورے شام میں فائربندی ہونی چاہیے نہ صرف مشرقی غوطہ میں،کیونکہ وہ چھوٹے سے علاقے کہ جہاں گذشتہ کئی سال سے عوام دہشت گردوں کے محاصرے میں جیسے ن ±ب ±ل اور زہرا کا علاقہ کے بارے میں فائربندی کےلئے کبھی عالمی برداری نے توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔واضح رہے کہ ن ±ب ±ل اور زہرا دو ایسے علاقے ہیں کہ جو گذشتہ تین سال سے دہشت گردوں کے محاصرے میں ہیں اور آئے دن ان علاقوں کی آبادی پر راکٹوں کے حملے ہوتے ہیں اور حکومت مخالف سیرین آبزرویٹی نامی گروہ کے مطابق ن ±ب ±ل و زہرا میں اب تک بھوک بیماریوں اور شدت پسندوں کے راکٹوں تین سو سے زائد اموات ہوئی ہیں۔
مگر ان کےلئے امریکا کے سینہ میں کوئی درد ہے اور نہ سعودی عرب کے پیٹ میں۔
تصویر کا ایک رخ ہے
اے مسلمانو !دنیا کو صرف یہ دکھایا جارہا ہے کہ اسد کی حکومت انسانوں کا خون پی رہی ہے اور اسد کسی بھیڑیئے سے کم نہیں ہے،آسمان سے آگ برس رہی ہے جو انسانی جانوں کو نگل رہی ہے مگر زمین پر کیا ہورہا ہے کوئی نہیں جانتا ہے۔اس میں کوئی انسانوں کا ہمدرد نہیں ،سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں،اپنے اپنے مقاصد ہیں۔ سعودی عرب نے شام میں اپوزیشن فورسز بہ شمول چند مسلم مسلح گروپوں کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہاہے،سعودی عرببھیشام میں ایران مخالف اور سعودی عرب کی حامی حکومت کا قیام چاہتا ہے، جو بشارالاسد کی جگہ قائم ہو۔جس کےلئے وہ شیعہ سنی منافرت کو ہوا دے رہا ہے۔سنیوں کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ شیعوں کی طاقت ان کے زوال کا سبب ہوگی۔
اسرائیل پر یہ خوف سوار ہے کہ شام میں ایران کے قدم پڑ گئے ہیں، اسرائیل کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ شام میں ایرانی اثرورسوخ قائم نہ ہواور حزب اللہ مضبوط نہ ہو سکے۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ یہ فوجی گروہ گولان کے پہاڑی سلسلے سے بھی اسرائیل پر ایسے ہی حملے کر سکتا ہے۔اس لئے اسرائیل کا شور یہ ہے کہ اسد انسانیت کےلئے خطرہ ہے ۔
امریکا کا اپنا تیل کا مفاد ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کا ساتھ۔ابتک ایسا ہی لگ رہا تھا کہ امریکا ہر قیمت پر اسد کا خاتمہ چاہتا ہے مگر یہ خون اپنے ہاتھوں میں لگانا نہیں چاہتا ہے بلکہ صدام حسین اور قدافی کی طرح اسد کو بھی اپنوں کے ہاتھوں نپٹانے کی تیاری کررہا ہے۔در اصل بشارالاسد کے تیئں امریکا کی پالیسی بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ سابق صدر اوبامہ بھی بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتے رہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس بشارالاسد کے حوالے سے کسی حد تک نرم گوشہ رکھتی ہے۔امریکا اب یہ دعوی کررہا ہے کہ شام میں اسد حکومت کے سبب سب کا وجود خطرے میں ہے ۔
 اے مسلمانو!یہ جنگ سیاست کی دین ہے اس میں شیعہ سنی اختلاف کا ہاتھ نہیں اس میں امریکا ،اسرائیل اور سعودی عرب کی ٹانگیں اڑی ہوئی ہیں اور کچھ نہیں جو اپنے مفاد اور مقصد کےلئے اس کو کوئی بھی رنگ اور شکل دے رہے ہیں۔

SEARCH / TALAASH

Total Pageviews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Back to TOP