ہندوستان میں کھیلوں کی دنیا میںمسلمانوں کی نمائندگی ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے،بات کرکٹ کی ہو یا فٹ بال
کی ہاکی کی ہو یا پھرٹینس کی۔ہر میدان میں آپ کو کوئی نہ کوئی مسلم سپر اسٹار مل جائے گا۔کوئی ہوا کے رخ کے خلاف منزل پا جاتا ہے تو کوئی لہروں کے خلا ف تیر کر بھی منزل حاصل کر لیتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر آپ میں اہلیت ہے تو پھرآ پ کو روک پانا بہت مشکل ہے۔آزادی کے بعد کہیں یا پھر تقسیم ملک کے بعد کہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوںکی نمائندگی پر برا اثر تو پڑا تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے باوجود دنیا ایسے مسلم ناموں کو نظر انداز نہیں کرجنہوں نے اپنے اپنے میدانوں میں جھنڈے گاڑے اورملک کا نام روشن کیا۔
کرکٹ میں چھائے سورما۔
کرکٹ میں تو ایسے ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے ہندوستانی کرکٹ میں شہرت پائی۔
افتخار علی خان پٹودی،وزیر علی،،گل محمد ،عابد علی،،مشتاق علی ،منصور علی خان پٹودی ،عباس علی بیگ،سلیم درانی ،سید مجتبی کرمانی،محمد نثار،غلام احمد فروق انجینئر،محمد اظہر الدین،ارشد ایوب ،
عرفان پٹھان ،یوسف پٹھان ،مناف پٹیل،محمد کیف،محمد جعفر،ظہیر خان ،محمد سمیع۔کچھ نام آزادی سے قبل کے بھی ہیں جنہوں نے ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی بھی نمائندگی کی۔ان میں مشتاق علی اور عبدلحفیظم کاردار کے نام مقابل ذکر ہیں۔
اگر بات کریں پٹودی خاندان کی تو افتخار علی خان کو ہندوستان کا پہلا مسلمان کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،جنہوں نے تین ٹیسٹ کھیلے اور ان میں قیادت کی۔جس کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر انگلینڈ کی بھی نمائندگی کی تھی۔اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ افتخار علی خان نے کرکٹ کے ساتھ انٹر نیشنل ہاکی میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔ان کا انتقال 5جنوری1952میں ہوا تھا اس وقت ان کے بیٹے منصور علی خانکی عمر صرف 11سال تھی۔
اب منصور علی خان کی بات کریں تو انہیں ہندوستانی کرکٹ میں ”جونئیر پٹودی “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔جو کرکٹ کی دنیا کے سب سے کم عمر کپتان بنے تھے۔انہوں نے 46ٹسٹ میں ملک کی نمائندگی کی جن میں 2793رن بنائے تھے ۔سب سے بڑا اسکور203رنوں کا تھا جو 1961میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔ایک کار حادثہ میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی جس کے سبب کرکٹ سے دوری ہوئی ۔مگر1974میں وہ پھر واپس آئے ،ایک بار پھر قیادت کی۔ہندوستان نے ان کی قیادت میں مزید9ٹسٹ کھیلے تھے۔
ایک نام تھا عباس علی بیگ کا ،جنہوں نے 1959میں انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ کیر ئر کا آغاز کیا تھااور 112رن کی اننگ کھیلی تھی۔وہ انگلینڈ کے خلاف سینچری بنانے والے پہلے مسلمان کرکٹر تھے۔انہوں نے ملک کےلئے 10ٹسٹ کھیلے تھے۔ان کے ساتھ ایک چہرہ تھا غلام احمد کا۔جو کہ منصور علی خان پٹودی کے بعد دوسرے مسلمان کپتان تھے۔وہ ہندوستان کے پہلے ورلڈ کلاس آف اسپنر تھے۔22ٹسٹ میں 68وکٹ حاصل کی تھیں۔بہترین بالنگ 49رنوں پر7وکٹ تھی۔
ایک اور مسلمان ستارے کا نام تھا فروق انجینئر۔جن کو دنیا کا بہترین وکٹ کیپر مانا جاتا تھا۔انہوں نے1961میں ٹسٹ کیرئر کا آغاز کیا تھا اور 46ٹسٹ کھیلے جن میں 2611رن بنائے تھے جن میں دو سینچریاں تھیں۔انہوں نے وکٹ کے پیچھے 72بیٹسمین کو آﺅٹ کیا تھا۔انہوں نے 5ون ٹے انٹر نیشنل بھی کھیلے تھے۔جن میں سب سے بڑا اسکور54رن کا تھا۔
سید عابد علی کو ہندوستانی کرکٹ میںمیڈیم پیس بالر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔جنہوں نے1967میںآسٹریلیا کے خلاف اپنے کیرئر کا آغام کیا تھا۔29ٹسٹ میں 47وکٹ چٹخائے ۔ایکم بیٹسمین کی حیثیت سے 1018رن بنائے۔ہندوستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی ٹسٹ فتح میں شامل تھے۔انہوں نے 5ون ڈے بھی کھیلے تھے۔
بات فرمائشی چھکے باز سلیم درانی کی کریں توکابل میں پیدا ہوئے درانی نے 1959میں آسٹریلا کے خلاف ٹسٹ کیر ئر کا آغاز کیا تھا،انہوں نے29ٹسٹ کھیلے تھے۔جن میں 1202 رن بنائے تھے۔ان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین کی104رن کی اننگ بھی شامل ہے۔انہوں نے 75وکٹ بھی لی تھیں۔
اس کے بعد کرمانی کی شکل میں ہندوستان کو ایک اور سب سے کامیاب وکٹ کیپر ملا تھا۔انہوں نے 1975میں ٹسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔88ٹسٹ کھیل کر انہوں نے 2759رن بنائے تھے۔جن میں دو سینچریاں شامل تھیں۔وکٹ کے پیچھے ٹسٹ میں 198شکار پکڑے تھے جبکہ ون ڈے کرکٹ میں بھی49میچوں میں 36شکار پکڑے اور373رن بنائے تھے۔
اس کے بعد محمد اظہر الدین نے کرکٹ کے افق پرچمکنا شروع کیا تو اس وقت کرمانی کا زوال تھا۔اظہر نے تین ٹسٹ میں لگاتار تین سینچریاں بناکر ”ونڈر بوائے“ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔اس کے بعد وہ ملک کےم سب سے کامیاب کپتان بنے ۔1984میں کولکتہ میں اظہرالدین نے پہلا ٹسٹ ایڈن گارڈن میں کھیلا اور110رن بنائے ،وہ پہلے ٹسٹ میں سینچری بنانے والے آٹھویں ہندوستانی تھے ۔دوسری سینچری105 مدراس ٹسٹ میں اور تیسری122 کانپور ٹسٹ میں بنائی تو دنیا میں ہلچل مچ گئی تھی۔اظہر الدین نے 9000ہزار سے زیادہ رن بنائے۔ان کا سب سے بڑا اسکور 199رن تھا ۔ اظہر کا کیرئر میچ فکسنگ کے چکر میں ہوا جس میں ان پر تاحیات پابندی عاہد کی گئی جو سزا کم اور کرکٹ آقاﺅوں کا انتقام زیادہ تھا۔
اس کے بعد ایک نام ارشد ایوب کا آیا تھا۔ایک ذہین اسپنر۔مگر بد قسمتی سے اہم مواقع پر کرشمہ نہیں دکھا سکے ،اس لئے13ٹسٹ میں ہی کیرئر سمٹ گیا۔جن میں اس نے41 وکٹ لئے اور257رن بنائے تھے۔ساتھ ہی31ون ڈے میں31وکٹ لی تھیں۔
اس کے بعد محمد کیف اور محمد جعفر نے ہندوستانی کرکٹ میں نمائندگی کی اور بہت زیادہ کامیاب نہ ہونے کے باوجود ایک چھاپ چھوڑی ہے۔
اس کے ساتھ ظہیر خان ،عرفان پٹھان ،یوسف پٹھان ،مناج پٹیل اور محمد سمیع کے نام ہیں۔ظہیر خان کو ہندوستان کا سب سے کامیاب فاسٹ بالر مانا جاتا ہے۔کپل دیو کے بعد ظہیر خان نے ہندوستانی کرکٹ میں رفتار اور سوئنگ کا کمال دکھایا ۔جس نے 92ٹسٹ میں311وکٹ گرائے اور 200ون ڈے میں 282وکٹ۔کرکٹ Read more میں ایک وقت یسا تھا جب ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں چار اور چانچ کرکٹرز شامل تھا۔
فٹ بال کے جادوگر
ہندوستان کےلئے اب فٹ بال ورلڈ کپ ایک خواب ہے،جیتنا نہیں بلکہ صرف حصہ لینا ۔مگر ماضی میں ایساوقت آیا تھا کہ ایک گروپ ٹیم کے ہٹ جانے کے سبب ہندوستان کو1950 فیفا ورلڈ کپ میں نمائندگی کا موقع مل رہا تھا۔لیکن ہندوستان نے بھی معذرت کرلی تھی جس کےلئے کیا وجہ بیان کی گئی تھی اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ مگر اولمپک گیمز اورایشین گیمز میں ہندوستانی فٹ بال کا نام رہا مگر یہ ماضی کی کہانی ہے۔بس فٹ بال کا ٹیلنٹ انفرادی طور پر سرخیوں میں رہا ۔نام آئے بڑے بڑے ۔ایک عرصے تک چھائے رہے مگر تنہا کون کہاں تک قومی ٹیم کو گھسیٹ سکتا ہے؟
بابائے فٹ بال سید عبدالرحیم کے ساتھ احمد خان،یوسف خان،بی پی صالح،سید نعیم الدین،نور محمد،رحمت،ٹی عبدالرحمان ،محمد حبیب ،محمد اکبر،لطیف الدین،
ماضی کی ات کریں تو ہندوستانی فٹ بال میں تقسیم ملک سے قبل اور بعد میں بھی سب سے بڑا نام بابائے فٹ بال عبدالرحیم کا رہا ہے جنہیں حیدرآ باد ی فٹ بال کی روح بھی کہاجاتا ہے۔جنہوں نے جتنی کامیابی ایک فٹ بالر کی حیثیت سے حاصل کی اتنی ہی ایک کوچ کی حیثیت سے۔فٹ بال میںہندوستان کی پانچویں اورچھٹی دہائی میں کامیابی کا سنہرا دور در اصل ان فٹ بالرز کے نام ہے جن کا آج تک کوئی متبادل نہیں آسکا ۔رحیم کو ہندوستانی فٹ بال میں ”رحیم صاحب “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جن کی کوچنگ میں بعد ازاں ہندوستانی فٹبال ٹیم نے 1962ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
احمد خان کا نام بھی ہندوستانی فٹ بال میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا ،جن کو 1950کی دہائی میں ایسٹ بنگال کی ٹیم کے مشہور پانچ پانڈومیں ایک نام احمد خان کا بھی تھا۔جن کو ہندوستانی فٹ بال میں پہلا ’گیم میکر ‘ مانا جاتا ہے۔انہوں نے ایسٹ بنگال کو لیگ،شیلڈ اور روورس کپ 1949میں دلایا تھا۔احمد خان خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے۔
دراصل تقسیم ملک سے قبل ہندوستانی فٹ بال کی طاقت کچھ اور تھی مگر بٹوارے نے اس کو بھی باٹ دیا تھا۔آزادی کے بعد حیدرآباد کے ساتھ کولکتہ سب سے بڑا فٹ بال مرکز رہا۔ملک بھر کے فٹ بالرز کولکتہ لیگ کے سبب اس شہر کا رخ کرتے تھے جہاں ملک کے تین بڑے کلب۔۔محمڈن اسپورٹنگ کلب ،ایسٹ بنگال اور موہن بگان ہیں۔رحیم صاحب کے ساتھ حیدرآبا د کا جو رشتہ جڑا،وہ سید نعیم الدین کے ساتھ محمد اکبر اور محمد حبیب کے ساتھ جاری رہا ۔اس دوران اور بھی حیدرآبادی فٹ بالر آئے ۔مگر نعیم الدین نے ایک کھلاڑی کے ساتھ ایک کوچ کی حیثیت سے بھی کامیابی حاصل کی،حبیب ۔اکبر د و بھائیوں کی جوڑی بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس کے بعد ایک دور آیا جب محمد فرید،اسلم خان،محی الدین ،رحمت اللہ ،الیاس پاشا اور دیگر ناموں نے فٹ بال میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔
ہاکی کے رکھوالے
بات ہاکی کی کریں تو ایک ایسا کھیل جس میں کبھی ہندوستان کی طوطی بولتی تھی۔اب اس کا سایہ بھی نہیں ہے۔پانچویں دہائی میں اختر حسین کا نام تھا۔جنہوں نے 1948اولپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔1980میں ہی ایک نام محمد شاہد کا تھا جن کو ہندوستانی ہاکی کا جادوگر کہتے تھے۔انہیں اسی سال ارجن ایوارڈ بھی ملا تھا۔ان کو 1981میں ہی پدم شری ایوارڈ بھی ملا تھا۔
ظفر اقبال نے 1984اولمپک گیمز میں قیادت کی تھی،انہیں بھی 1983میں ارجن ایوارڈ دیا گیا تھا۔2012میں انہیں پدم شری ملا تھا۔1975میں ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم میں ایک نام اسلم شیر خان کا تھا۔1998میں محمد ریاض اس ایوارڈ کے حقدار بنے تھے۔
سب سے زیادہ شہرت محمد شاہد کے حصے میں آئی تھی جن کا تعلق بنارس سے تھا ،1970 اور 80 کے عشرے کی ہاکیمیں محمد شاہد کے ہنر کا جادو سب کو یاد ہوگا۔ میدان میں ان کی چستی اور ’جادوئی‘ ڈربلنگ نے انہیں بہت کم عمر میں ہی سٹار بنا دیا تھا۔بطور فارورڈ کھیلنے والے شاہد 1980 کے ماسکو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے اور اس کے پانچ سال بعد انھیں قومی ٹیم کی کپتانی کرنے کا بھی اعزاز ملا۔ماسکو اولمپکس میں گولڈ جیتنے والی ٹیم میں سابق کپتان ظفر اقبال بھی شامل تھے۔ ’شاہد ایک عظیم کھلاڑی تھے، وہ اتنے تیز رفتار تھے کہ حریف ٹیمیں انھیں مارک کرنے کےلئے دو کھلاڑیوں کی ڈیوٹی لگاتی تھیں، لیکن ان کے کھیل میں وہ جادو تھا کہ انھیں کوئی روک نہیں پاتا تھا۔ میں چاہ کر بھی ویسا نہیں کھیل سکتا تھا۔شاہد ریلویز کے ملازم تھے لیکن ہاکی کو خیر باد کہنے کے بعد اپنی باقی زندگی گمنامی میں ہی گزاری۔ وہ بڑے سٹار بنے لیکن کبھی انکساری کا دامن نہیں چھوڑا۔ہاکی کے ماہرین مانتے تھے کہ شاہد خدا داد صلاحیت کے مالک تھے، اور ان کے کھیل کا انداز کچھ ایسا تھا کہ کسی کوچنگ اکیڈمی میں نہیں سکھایا جاسکتا۔ ان سے بال چھیننا مشکل تھا اور ان کے ’ڈاج‘ سے دفاعی کھلاڑی پریشان رہتے تھے۔
ٹینس میں چمکتے ستارے
ہندوستانی ٹینس میں یوں تو اختر علی اور ذیشان علی کا نام تھا جو اپنے کھلاڑی دور کے بعد کوچنگ میں بھی آئے تھے مگر ہندوستانی ٹینس کو شباب دینے کا سہرا ثانیہ مرزا کے سر ہی جاتا ہے۔
اختر علی 1958سے 1964تک ڈیوس کپ میں ہندوستانی ٹیم کے ممبر رہے تھے،2008میں وہ کپتان رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے کوچنگ سنبھال لی تھی۔ایک کوچ کی حیثیت سے انہوں نے ملک کو رمیش کرشنن ،وجے امرت راج،آندد امرت راج اور لینڈر پیس جیسے کھلاڑی دئیے جبکہ ذیشان علی ان کے بیٹے ہیں۔انہیں ارجن ایوارڈ کے ساتھ درونا چاریہ ایوارڈ بھی ملا ہے جو کوچنگ کےلئے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
ان کے بعد ذیشان علی نے ہندوستانی ٹینس میں سنسنی پھیلائی تھی وہ1995تک ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلے تھے۔وہ 1987سے 1993تک ڈیوس کپ ٹیم کا حصہ رہے۔2014میں انہیں صدر جمہوریہ کے ہاتھوں پر وقار دھیان چند ایوارڈ ملا تھا۔
بات ٹینس کی سنسنی کی کریں تو15 نومبر 1986 کو پیدا ہونے والی ثانیہ مراز ٹینس کیشہزادی بن گئیں۔ انہوں نے 2003 سے ٹینس کیرئر شروع کیا اور 2004 میں انہیں ارجن اعزاز سے نوازا۔ثانیہ مرزا کے والد عمران مرزا ایک کھیلوں کے صحافی ہیں اور ان کی والدہ کا نام نسیمہ ہے جو ممبئی کی ہیں۔ ثانیہ نے حیدر آباد میں ایک مذہبی خاندان میں پرورش پائی۔
ثانیہ نے چھ سال کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا اور 2003 میں باقاعدہ طور پر ٹینس کے میدان میں اتریں۔ انہیں ان کے والد اور دوسرے فیملی کے اراکین نے انہیں ٹینس کی ابتدائی تربیت دی۔ انہوں نے سینٹ میری کالج سے گریجوایشن کا امتحان پاس کیا۔ثانیہ نے جولائی 2009 میں حیدرآباد میں اپنے بچپن کے دوست صہیب مرزا ،جو ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں، سے منگنی کی۔ یہ منگنی 28 جنوری 2010 کو ختم کر دی گئی اور 29 مارچ 2010 کو مشہور و معروف پاکستانی کرکٹ کھلاڑی اور سابق کپتان شعیب ملک سے منگنی کر لی۔ثانیہ کی کامیابیوں اور شہرت نے ہندوستان میں ٹینس کو کرکٹ کی مقبولیت کے مقابلے میں لا دیا تھا۔










