جنگ شام
کیا سچ کیا جھوٹ
کیا ہے شام میں بمباری اور پھر دنیا میں تباہی کے مناظر کی تصاویر کے سیلاب کا سچ
تحریر:منصور الدین فریدی
دنیا کا سب سے بڑا میدان جنگ ہے شام ۔کوئی کسی کے ساتھ ہے اور کوئی کسی کے خلاف ۔کوئی کسی کے پیچھے ہے اور کوئی کسی کے آگے۔کسی کی پشت پر کسی کا ہاتھ ہے تو کسی کے سر پر کسی کا ہاتھ ہے۔مفادات کی جنگ نے مشرق وسطی میں اب اس قدر بل ڈال دئیے ہیں کہ انہیں دور کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔سب کے دماغ چل رہے ہیں اور سب فوجیں دوڑ رہی ہیں۔سب کے اپنے اپنے اتحاد ہیں ۔شطرنج کی بساط بچھی ہے،شہ اور مات کا کھیل جاری ہے ۔خبریں آرہی ہیں ،کسی کی بمباری جان لے رہی ہے اور کسی کی بمباری جان بچا رہی ہے ۔عجیب و غریب ماحول ہے۔بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے پوری فوجی طاقت جھونک دی ہے ،ہزاروں بم گر رہے ہیں ۔مگر اس کے پیچھے ایک اور جنگ جاری ہے جو ہے دنیا کو گمراہ کرنے کی”پروپگنڈہ جنگ“۔جو دنیا کےلئے شام کی جنگ ایک معمہ بنا رہی ہے۔خاص طور پر مسلمانوں کو ”چکرا“ رہی ہے۔بے چین کررہی ہے اور اسد کے خلاف ماحول سازی کررہی ہے جس میں خاص طور پر سنی دنیا میں اسد کی امیج کسی ”خونی بھیڑیئے“ جیسی ہوگئی ہے۔یہ سب امریکا کا کھیل ہے، جنگی کھیل جس میں بارود سے زیادہ پروپگنڈہ مواد کا استعمال ہورہا ہے کیونکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور انہیں صدام حسین یا معمر قدافی جیسے انجام تک پہنچانے کےلئے ضروری ہے رائے عامہ بنائی جائے جو امریکہ کے جنگی جرائم کو انسانی خدمت کا درجہ دلا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب شام کی سرزمین پر جتنے بم نہیں گر رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ تصاویر اور ویڈیوز کی بارش ہو رہی ہے،شام سے زیادہ آہ بکا عالم اسلام میں ہے،جو اثر دکھا رہی ہے، جن کا اثر دنیا کے دل ودماغ پر ہورہا ہے ۔دنیا اسد کی تباہی کی دعائیں مانگ رہی ہے انہیں انسانیت کا دشمن قرار دیا جارہا ہے ،ان کےلئے جہنم کے دروازے کھولے جانے کی دعا ہورہی ہے۔اسد کو درندہ اور حیوان مانا جارہا ہے۔بس عالم اسلام میں دعاﺅں کا دور جاری ہے،جانماز پر دعا سے زیادہ سوشل میڈیا پر ”امین “ لکھنے کا مقابلہ چل رہاہے۔ہماری نظر میں اسد کو سنیوں کا دشمن بنا دیا گیا ہے، اسد حکومت کے خاتمہ کےلئے انسانیت کےلئے لازمی قرار دیا جارہا ہے ،سب کچھ وہی ہورہا ہے جو جنگ عراق سے قبل ہوا تھا اور دنیا اس وقت بھی بیوقوف بنی تھی اور اب بھی بن رہی ہے۔
سوال یہی ہے کہ جو ہمیں دکھایا جارہا ہے ہم اس کی بنیاد پر رائے قائم کررہے ہیں اور جو نہیں دکھایا جارہا ہے اس بارے میں ہم کیوں نہیں سوچ رہے ہیں ؟ یمن میں سعودی عرب کی بمباری نے کیا تباہی برپا نہیں کی ہے ؟ کیا یمن میں لاشوں کے ڈھیر نہیں لگے ہیں؟ کیا یمن میں بچے نہیں مررہے ہیں؟ کیا یمن میں قیامت برپا نہیں ہے؟ کیا سعودی عرب دعوی کرسکتا ہے کہ اس کی جنگ میں صرف حوثی مارے جارہے ہیں اگر ایسا ہوتا تو تین سال تک جنگ جاری رہتی؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی پروپگنڈہ مشنری صرف اور صرف شام کے مشن پر جٹی ہے اس لئے دنیا بھی صرف شام کو دیکھ رہی ہے اور وہی دیکھ رہی ہے جو امریکا اور اسرائیل دکھا رہے ہیں اور بتا رہے ہیں۔









