آہ ! نہیں ۔۔
واہ ! سلیم صدیقی
ایک اور اردو صحافی کی ”فطری“ موت
حیران نہ ہوں مگر ایسے انسان کو اس کی زندگی اوراس کی موت کے بعد اسی انداز میں یاد کرنا چاہیے!جس نے غریب اردو صحافت کو اپنے اصولوں سے امیر بنانے کی کوشش کی۔ناکام رہے ،خود اللہ کو پیارے ہوگئے مگرصحافت کو مرنے نہیں دیا ۔کوئی سمجھوتہ نہیں کیا،ذلت اور جی حضوری پر خود داری کو ترجیح دی۔موت کے کھیل میں زندگی کی بازی ہاری مگرزندگی کےلئے ضمیر کو بیچنا گوارہ نہیں کیا۔یہ موت کا کھیل” اردو صحافت “ ہی ہے ۔بالکل اسی طرح کا جو آپ کسی سرکس میں ”موت کے کنویں “میں ایک شخص کو موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتے ہیں،ایک چوک اور کھیل ختم۔یہی کچھ سلیم صدیقی کے ساتھ ہوا تھا،ان کی چوک یہ تھی کہ اردو صحافت میں ان کی تنخواہ ”غریبی کی سطح“ سے کچھ اوپر ہوگئی تھی ،یعنی کہ وہ خوشحالی کے دائرے میں داخل ہوگئے تھے ۔جس کے سبب وہ آنکھوں کا کانٹا بن گئے،سلیم صدیقی کا بھرا پیٹ اور چہرے کا سکون ان کو ناگوار گزرنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ صحافت میں تجربہ اور بزرگی کےلئے ایسے اعزاز سے نوازا گیاکہ آخری آرام گاہ میں پہنچا دیا گیا۔ظاہر ی بات ہے کہ جنہیں سب پھٹے حال پسند ہوتے ہیں انہیں خوش حال کیسے ہضم ہوتے۔ اس لئے ”راشٹریہ سہارا“ میں انہیں شاید 15یا 16سال کی ملازمت کے بعد ایسے حالات میں لا کھڑا کیا گیا تھا کہ ان کے سامنے ”خدا حافظ “ کہنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ان کو ایک پیشکش کی گئی تھی کہ ”تنخواہ“ کی” ختنہ “کرالیں تو ملازمت برقرار رہ سکتی ہے۔ان کی تنخواہ جس شخص کےلئے ناقابل برداشت بن رہی تھی سنا ہے اس کو اردو بھی نہیں آتی ہے پھر بھی وہ اردو کا صحافی ہے۔کہتے ہیں کہ ذلت کی زندگی سے موت بہتر ہے ،شاید یہی سوچ کر سلیم صدیقی نے اس سہارا کو چھوڑا،جہاںسہارا دینے والا کوئی نہیں تھا مگر ایک سیدھے سادے انسان کا صفایا کرنے کےلئے ایک’ صافی‘نے بڑی برق رفتاری سے کام کیا۔ جومالکان میز اور کرسیوں کو سیدھا اور صاف کرنے کے ساتھ ان کے پیر چھونے کےلئے مشہور ہوچکا ہے ۔ایسے لوگوں نے اپنی بادشاہت بچانے کےلئے پیادوں کو قربانی کا بکرا بنایا ،کسی کو ڈرایا دھمکایا اور بھگایا تو کسی کو معطل کرایا اور کسی کو برخاست۔اسی کی زد میںآگئے سلیم صدیقی۔
سب جانتے ہیں کہ ایک بڑے درخت کو اگر زرخیز زمین سے اکھاڑ کر کسی بنجر زمین پر لگا دیا جائے تو وہ کچھ دنوں میں خود مر جھا جاتا ہے ، سوکھ کر ڈھیر ہوجاتا ہے اور پھر جلانے کے کام آتا ہے جیسے آج سلیم صدیقی ڈھیر ہوگئے اورہم کی تعزیت انہیں کا الاﺅ جلا رہے ہیں۔آج ہر کوئی سلیم صدیقی کو یاد کررہا ہے ،انہیں سلام کررہا ہے ،ان کی یادوں پر روشنی ڈال رہا ہے،حق تعزیت ادا کررہا ہے،مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ اردو صحافت کی غلاظت میںِ آج ایک اور مزدور دب کر چل بسا۔ خاص طور پر اردو صحافت میں اس کو فطری موت ہی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کو قتل ثابت کرنے کےلئے قطار میں لگے قربانی کے بکروں کو اس گریبان کو پکڑنا ہوگا جو ہمیشہ کھلا رہتا ہے شاید اسے اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا نظر نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے وہ گریبان آج بچ جائے مگر اللہ کے سامنے کیا ہوگا ؟وہاں کون کس کا سہارا بنے گا اور کون کس کو سہارا دے گا۔حیرت کی بات یہی ہے کہ ایسے لوگ جنازے میں بھی آتے ہیں ،شاید پہلی صف میں اعلی مقام بھی حاصل کرلیتے ہیں،چہرے کو مر جھا کر تعزیتی پھول بھی برساتے ہیں۔
میں موضوع سے بھٹک نہیں رہا ہوں مگر آپ بھی غور کر یئے سلیم صدیقی کی موت کے بعد وہی مناظر نظر آئے ہونگے جیسا کہ پاکستان کی ”زینب “کے قتل کے بعد ہوا تھا۔اس کا قاتل سب کچھ کرنے کے بعد اس کے جنازے میں کو کندھا بھی دے رہا تھا اور جنازے کی نماز میں بھی سب سے آگے نہیں تھا تو کسی سے پیچھے بھی نہیں تھا ۔جب عوام سے عدالت تک لاتیں پڑیں تو پولیس نے اس قاتل کو پکڑا اور اب سب دانتوں تلے انگلیاں دبائے ہوئے ہیں کہ قاتل تو ”نعت خواہ“تھا ،ماتم کرنے والوں میں پیش پیش تھا،جنازے میں سب سے آگے تھا۔کہنے کا مطلب یہی ہے کہ جب اس طرح اللہ کو پیارے ہونے والے اردو صحافیوں کی موت کی چھان بین ہو تو ایسے ہی چہرے بے نقاب ہونگے جو سلیم صدیقی کے جنازے میں بھی شامل ہو ئے ہونگے انہیں کندھا بھی دیا ہوگا اور ان کےلئے تعزیتی کلمات میںکوئی کٹوتی بھی نہیں کی ہوگی۔بہرحال سلیم صدیقی تو اردو صحافت کی خوش قسمتی تھے جو اپنی موت میں بھی اردو صحافت کو زندگی دے گئے مگر کچھ اردو صحافت ایسے بد نصیب صحافی بھی ہیں جن کی زندگی ہی اردو صحافت کی موت کا سامان بن رہی ہے۔ان حالات میں بس ہی کہا جاسکتا ہے کہ --ان اللہ مع الصابرین ( “Verily, Allah is with the patient”)










