تحریر: منصور الدین فریدی
عالم اسلام میں جشن کا سماں ہے،،نعرہ تکبیر کی گونج ہے۔کوئی شام بھول گیا ، کوئی یمن۔ کوئی افغانستان کوبھلا بیٹھا اور کوئی ایران ۔کوئی لیبیا کو تو کوئی غزہ کو۔سب کی نظریں ترکی کے استنبول پر ہیں اور زبان پر ’اردوغان‘ زندہ باد کا نعرہ ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ عالم اسلام میں نیا سورج طلوع ہوگیا ہے۔کوئی نیا مسیحا جلوہ افروز ہوگیا ہے۔مسلمانوں کے ”اچھے دن“آگئے۔تمام مسائل دور ہوگئے یا پھر ان کی راہ نکل آئی۔یہ سب کچھ ہورہا ہے ایک چرچ کے پہلے مسجد ،پھر میوزیم اور پھر مسجد میں تبدیل ہونے پر۔وہ بھی کوئی معمولی عبادت گاہ نہیں بلکہ آیا صوفیہ ہےجسے سینٹ صوفیہ اورہگاصوفیہ جیسے مختلف ناموں سے بھی پکارا جاتا رہاہے۔ دنیا کی اس قدیم ترین عمارت کی بنیاد بازنطینی حکمران کونسٹنٹائن اوّل نے رکھی تھی۔ لیکن یہ عمارت اپنی موجودہ حالت میں شہنشاہ جسٹینین کے دور میں 532ءاور537ءمیں تعمیر کی گئی۔ ایک ہزار سال تک اسے دنیا کے سب سے بڑے گرجے اور عیسائیوں کے مذہبی و روحانی مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔1453ءمیں قسطنطنیہ کی عظیم فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے آیاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا، 1453ءسے 1935ءتک، تقریباً 481 سال، آیا صوفیہ کی یہ عظیم عمارت مسجد کی حیثیت سے قائم رہی۔ لیکن پھر جنگ آزادی اور جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے آیاصوفیہ کی عجائب گھر میں تبدیل کیا،اب دوبارہ رجب طیب اردوغان نے اس کو دبارہ مسجد میں تبدیل کردیا ہے۔اس واقعہ نے دنیا میں ایک بڑی بحث چھیڑ دی اور عالم اسلام میں اچانک ترکی ’دیو‘ بن گیا۔ اردوغان ’خلیفہ‘کے کردار میں نظر آنے لگے۔ترکی کا بخار اب عالم اسلام کے سر چڑھ کر بول رہا ہے،کل تک مسلمانوں کا قائد کہلانے والا سعودی عرب دور دور تک نہیں،آسان لفظوں میں کہا جائے تو اردوغان طوفان بن گئے مگر اس نے عالم اسلام کے حال اور مستقبل پر پڑی دھول اڑانے کے بجائے ماضی کو چمکا دیا ہے ،جس کی چمک نے مسلمانوں کی آنکھیں چندھیا دی ہیں۔جو اب حال اور مستقبل کے بجائے ماضی کی سنہری یادوں میںغرق ہوگئے ہیںجسے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی کمزوری مانا جاتا ہے۔مگرسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ درست ہوا یا غلط ؟ اس کا تعلق مذہب سے ہے یا سیاست سے؟اس سے مسلمانوں کو کیا حاصل ہوگا؟کیا اسلام کی روح کے عین مطابق ہے؟یا پھر اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے؟
اسلام میں کہا کیا گیا ہے؟
قرآن نے صاف صاف کہہ دیاہے کہ ”۔لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی (البقرہ)“یعنی کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر واکراہ نہیں ہے، ہدایت گمراہی سے جدا ہوگئی۔اسلام کے مطابق وہ بستیاں جواسلامی شہروں میں داخل نہیں ہیں، ان میںعیسائیوں کو صلیب نکالنے، ناقوس اور گھنٹے بجانے اور مذہبی جلوس نکالنے کی آزادی ہوگی، اگر ان کی عبادت گاہیں ٹوٹ پھوٹ جائیں، تو ان کی مرمت اور ان کی جگہوں پر نئی عبادت گاہیں بھی تعمیر کرسکتے ہیں اور نہ وہ ان جگہوں میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرسکتے ہیں۔ البتہ عبادت گاہوں کے اندر انہیں مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ہم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ تاریخ انسانیت میں یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ کوئی مذہب یا نظریہ تلوار کے بغیر نہیں پھیلا۔ گویا تلوار اور جنگ غلبہ دین اور افکار و نظریات کی ترویج کےلئے ایک ضروری چیز رہی ہے۔اہم بات یہ رہی ہے کہ اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے جنگ کے اصول مقرر کئے۔ پیغمبر اسلامؑ نے دورِ جاہلیت کے تمام وحشیانہ جنگی طریقوں کو منسوخ کردیا اور ایسے قوانین نافذ فرمائے جو آج بھی احترام انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ 627 میں پیغمبر اسلامؑ نے سینٹ کیتھرائن متصل کوہسینا کے راہبوں اور تمام عیسائیوں کو پوری آزادی اور وسیع حقوق عطا کئے اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ عیسائیوں کے گرجاو¿ں، راہبوں کے مکانوں اور زیارت گاہوں کو ان کے دشمن سے بچائیں۔ کسی کو اپنی حدود سے خارج نہ کیاجائے۔ کوئی عیسائی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ کسی راہب کو اپنی خانقاہ سے نہ نکالا جائے۔ مسلمانوں کے مکان اورمسجد بنانے کی غرض سے عیسائیوں کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں“۔ پیغمبر اسلامؑ کی وسعت ظرفی اور دوسروں کو برداشت کرنے کی اعلیٰ ترین مثال یہود کے مقدس مقام کوہسینا (مصر) کے ساتھ عیسائیوں کا کلیساء”سینٹ کیتھرائن“ کی حفاظت اور عیسائیوں کے حقوق کے بارے میںیہ نامہ مبارک تحریر فرمانا ہے۔ حسن اتفاق سے آج تک یہ کلیساءموجود ہے اوراس کے ساتھ ہی تاریخ میں پیغمبر اسلام ؑ کا نامہ مبارک بھی اصل حالت میں موجود ہے۔
’معاہدہ عمر‘ کاتنازعہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ’معاہدہ عمر‘ کی بنیاد پر آیا صوفیہ کو حاصل کرنے کا ذکر کیا جارہا ہے ،اس پرتاریخ دانوں کا اختلاف رہا کہ آیا یہ معاہدہ حضرت عمر کے دوران حکومت وقوع پزیر ہوا یا یہ تصنیف بعد از عمر جوڑ دیا گیا۔کچھ تاریخ داں تواس معاہدہ جعلسازی پر مبنی مانتے ہیں ،جس کےلئے یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ اس کے بعد مسلمان فاتحین نے اس کی شرائط کو غیر مسلم رعایا کے ساتھ اپنے بعد کے معاہدوں پر لاگو نہیں کیا۔ اگر معاہدہ اس وقت موجود ہوتا تو وہ ضرور اپنے معاہدوں میں اس کی شرائط شامل کرتے۔ایک اور مو¿رخ ابراہیم بلاخ لکھتے ہیں کہ’عمر ایک روادار حکمراں تھے اور امکان نہیں کہ اس نے غیر مسلموں پر ذلت آمیز شرائط عائد کئے ہوں یا ان کی مذہبی اور سماجی آزادی کی خلاف ورزی کی ہو۔ اس کا نام غلط طور پر موجودہ امتناعی معاہدہ عمرؓ کیساتھ منسلک کر دیا گیا ہے ،کچھ تاریخ داںکے مطابق نام نہاد’معاہدہ عمر‘ میں مقرر کردہ شرائط خلافت کے نظریہ سوچ اور طرز فکر کےلئے نامناسب ہیں، اس دستاویز کی (متنی) خامیاں اس تنازع کی تائید کرتی ہیں کہ اس دستاویز کے موجد عمر ؓ نہیں تھے ۔
تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا اور وہ اس کی چابیاں وصول کرنے کےلئے خود وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ یہودیوں کی قدیمی عبادت گاہ کو عیسائیوں نے قبضے کے بعد مسمار کر کے وہاں کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا رکھا تھا جس کا باعث ان کی یہودیوں سے نفرت تھی۔ حضرت عمرؓ نے خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہاں سے کوڑا کرکٹ اٹھایا اور اسے عبادت کےلئے صاف کیا۔ مگر جب نماز کا وقت آیا اور ساتھیوں نے حضرت عمرؓسے وہاں نماز ادا کرنے کےلئے کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر میں نے یہاں نماز پڑھ لی تو تم لوگ اس پر قبضہ کر لوگے جبکہ یہ یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔اس رواداری کو آج بھی سلام کیا جاتا ہے مات آیا صوفیہ کو کسی بھی معاہدے کے نام پر حاصل کرنے میں طاقت کا دخل تو ہوسکتا ہے مگر مذہب کا نہیں۔
اب ہم کاغذدکھائیں گے؟
آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کےلئے جو سب سے بڑا دعوی پیش کیا جارہا ہے وہ اس کے ”خریدے“ جانے کا ہے۔کہتے ہیں کہ سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو اپنی جیب سے رقم ادا کرکے خرید لیا تھا،سوال یہ ہے کہ تقریبا دو ماہ کے محاصرے،ہزاروں اموات اور درجنوں حملوں کے بعد فتحیاب ہوکر شہر میں ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ داخل ہوئے سلطان کو اپنی عبادت گاہ سونپنے کے علاوہ مفتوح لوگوں کے پاس کوئی اور چارہ ہو سکتا تھا؟کیا سلطان محمد فاتح کےلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ آیا صوفیہ کے آس پاس ہی ایک نئی مسجد تعمیر کرتے؟کیا وجہ تھی کہ ایک چرچ کو ہی مسجد میں تبدیل کیا ؟کیا اس کا مقصد مسلمانوں کی بالا دستی کی علامت بنانا تھا؟تاریخ یہ بیان کرتی ہے کہ 1453ءمیں قسطنطنیہ کی عظیم فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے آیاصوفیہ میں پناہ گزین عیسائیوں اورشاہی خاندان کے افراد کےلئے عام معافی کا اعلان کردیا جو یہاں آہ و فریاد کررہے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی جانوں کی خیر نہیں۔سلطان محمد فاتح جمعہ کے دن فجر کے وقت آیا صوفیہ میں داخل ہوا تھا، اس نے کہا کہ چوں کہ یہ شہر ہم نے حضرت عمرؓ کے عیسائیوں سے معاہدے کے تحت بیت المقدس حاصل کرنے کی طرح حاصل نہیں کیا بلکہ‘ لڑکر فتح کیا ہے اس لئے ہم عبادت گاہوں کے ضامن ہیں‘ ہم جمعے کی نماز یہاں ادا کریں گے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں کیا عیسائیوں کےلئے اس مطالبے کی مخالفت ممکن تھی؟
دلائل اور جواز کی سنامی
جو ہونا تھا ہو چکا ہے،دنیا کے سامنے صرف ایک راستہ رہ گیا ہے’بحث‘۔ہم سب اسی میں لگ چکے ہیں۔ترکی کے بخار میں مبتلا اب دلائل کا سیلاب لا رہے ہیں۔اس عمل کے صحیح یا غلط کا جواب دینے کے بجائے میڈیا سے سوشل میڈیا تک جو مہم چل رہی ہے اس میں یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ یہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔بتایا یہ جارہا ہے کہ ایسا اسپین میں مساجد کے ساتھ ہوچکا ہے۔عیسائی حکمران اسپین کے مختلف شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد بڑی بڑی مساجد کو چرچوں میں تبدیل کرچکے تھے۔ لیکن اس کے بر عکس سلطان فاتح نے زبردستی آیاصوفیہ پر قبضہ کرکے اسے مسجد میں تبدیل نہیں کیا، بلکہ خطیر مال صرف کرکے اسے پادریوں سے خریدا،سوشل میڈیا پر وہ دستاویزات عام ہوگئی ہیں جن میں خرید و فروخت کی تفصیلات مذکور ہیں۔یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ عیسائیوں کے یہاں اپنے چرچوں کو فروخت کردینا عام بات ہے۔ اس کا اب بھی رواج ہے۔ اچھی قیمت ملنے پر اپنی عبادت گاہوں کو فروخت کردینا ان کے نزدیک کوئی عیب نہیں۔ چنانچہ یورپ کے بہت سے چرچ شراب خانوں اور مال میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یعنی اگر اس معاملے میں قصور بنتا ہے تو ا ن عیسائی مذہبی رہنماوں کا جنہوں نے اپنی مرضی سے اپنی مذہبی عبادت گاہ کا سودا کرلیا۔مشورہ یہ بھی دیا جارہا ہے کہ پوپ فرانسس کو اس بات سے زیادہ پریشانی لاحق ہونی چاہیے تھی کہ امریکا اور یورپ میں سیکڑوں گرجا گھر فروخت ہوچکے ہیں، حاضری کم ہوتی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پادری بڑی تعداد میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور بہت سوں کو تو سزا بھی سنائی جاچکی ہے۔
کون سنتا ہے اس شور میں
آیا صوفیہ کے واقعہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں جوش بھر دیا ہے مگر کچھ لوگ ہیں جو ا س پر سوال اٹھا رہے ہیں،پوچھ رہے ہیں کہ کوئی بتائے گا کہ یہ اسلامی ہے یا نہیں ؟لیکن شور ایسا ہے کہ فی الحال قوم کچھ سننے کو تیار نہیں۔کیونکہ اردوغان نے کہہ دیا ہے کہ اگلی منزل ’قبلہ اول یعنی مسجد اقصی‘ ہے،مسلمانوں کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ کر اردوغان نے اپنی مقبولیت کو ”براق“ پر سوار کردیا ہے۔جو اس معاملہ میں انگلی اٹھا رہا ہے یا کوئی سوال کررہا ہے وہ قوم دشمن بنا دیا جارہا ہے۔یہ قوم کی مایوسی کا دور ہے جس میں آیا صوفیہ کا کارڈاسے ایک اور دلدل میں دھکیل چکی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ترکی کے دور خلافت پر ٹی وی سیریل ”ارتغرل غازی“کے بعد ”آیا صوفیہ“ دوسری ایسی ”خوراک“ ہے جو مسلمانوں کو کہیں نہ کہیں بھٹکا رہی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سعودی عرب اور ترکی میں عالم اسلام کی قیادت کی جنگ کا ایک حصہ ہے جس میں فی الحال ترکی کا سکہ چل رہا ہے لیکن عالم اسلام کے مسلمانوں کو اس بات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ قوم و ملت کے مسائل کا حل نہیں۔ایسے واقعات پر تالیاں بجا کر وہ صرف مہرا بن سکتے ہیں اور کچھ نہیں۔
در اصل یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری عیاں کرتا ہے۔ہماری سوچ کو مشکوک بناتا ہے۔کیا ہم تنگ ذہنیت کے مالک ہیں ؟کیا ہم کو ایسے لوگ ہی پسند ہیں جو ہمارے حق میں بولیں؟اگر ’ہندو تو‘ سوچ کے خلاف ہندو زبان کھولے تو وہ حق گو،اسے سلام کرنے کےلئے قطار لگ جاتی ہے۔ یہودی سوچ کے خلاف یہودی آواز اٹھا دے تو وہ روشن سوچ کا مالک ،کوئی عیسائی چرچ کے خلاف بے باکی کا مظاہرہ کردے تو بے خوف ،لیکن المیہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان نے اپنی قوم کے کسی فیصلے پر انگلی بھی اٹھا دی تو وہ ضمیر فروش ہو جاتا ہے۔یہی حالات ”آیا صوفیہ “کو دوبارہ مسجد بنائے جانے کے بعد پیدا ہو چکے ہیں۔
ایک بات تو واضح ہے کہ ایسے فیصلے خالص سیاسی ہوتے ہیں،ان پر جشن دنیا بھر میں مسلمانوں کےلئے مشکلات ہی پیدا کرسکتے ہیں۔اردوغان کی اپنی مجبوریاں ہیں ،وہ ملک میں بخاص طور پر استنبول میں سیاسی طور پر کمزور پڑے ہیں ،انہیں یورپی یونین میں شمولیت کا رقہ بھی نہیں مل سکا ہے،سعودی عرب سے ان بن اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،وہ عالم اسلام کی قیادت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں جو بہت ممکن ہے کہ یورپی یونین میں شامل نہ ہونے کی مایوسی باور جھنجھلاہٹ ہو۔ایسے میں اردوغان میں ’خلیفہ اور ترکی میں ’خلافت‘ کے سائے تلاش کرنے در اصل احمقوں کی جنت میں جی رہے ہیں کیونکہ سازشوں اور جوڑ توڑ کے اس کھیل میں ان کے خلیفہ بننے کے امکانات کم اور ”مرسی‘ بننے کے خدشات زیادہ ہیں۔
’معاہدہ عمر‘ کاتنازعہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ’معاہدہ عمر‘ کی بنیاد پر آیا صوفیہ کو حاصل کرنے کا ذکر کیا جارہا ہے ،اس پرتاریخ دانوں کا اختلاف رہا کہ آیا یہ معاہدہ حضرت عمر کے دوران حکومت وقوع پزیر ہوا یا یہ تصنیف بعد از عمر جوڑ دیا گیا۔کچھ تاریخ داں تواس معاہدہ جعلسازی پر مبنی مانتے ہیں ،جس کےلئے یہ دلیل بھی پیش کی جاتی ہے کہ اس کے بعد مسلمان فاتحین نے اس کی شرائط کو غیر مسلم رعایا کے ساتھ اپنے بعد کے معاہدوں پر لاگو نہیں کیا۔ اگر معاہدہ اس وقت موجود ہوتا تو وہ ضرور اپنے معاہدوں میں اس کی شرائط شامل کرتے۔ایک اور مو¿رخ ابراہیم بلاخ لکھتے ہیں کہ’عمر ایک روادار حکمراں تھے اور امکان نہیں کہ اس نے غیر مسلموں پر ذلت آمیز شرائط عائد کئے ہوں یا ان کی مذہبی اور سماجی آزادی کی خلاف ورزی کی ہو۔ اس کا نام غلط طور پر موجودہ امتناعی معاہدہ عمرؓ کیساتھ منسلک کر دیا گیا ہے ،کچھ تاریخ داںکے مطابق نام نہاد’معاہدہ عمر‘ میں مقرر کردہ شرائط خلافت کے نظریہ سوچ اور طرز فکر کےلئے نامناسب ہیں، اس دستاویز کی (متنی) خامیاں اس تنازع کی تائید کرتی ہیں کہ اس دستاویز کے موجد عمر ؓ نہیں تھے ۔
تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا اور وہ اس کی چابیاں وصول کرنے کےلئے خود وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ یہودیوں کی قدیمی عبادت گاہ کو عیسائیوں نے قبضے کے بعد مسمار کر کے وہاں کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا رکھا تھا جس کا باعث ان کی یہودیوں سے نفرت تھی۔ حضرت عمرؓ نے خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہاں سے کوڑا کرکٹ اٹھایا اور اسے عبادت کےلئے صاف کیا۔ مگر جب نماز کا وقت آیا اور ساتھیوں نے حضرت عمرؓسے وہاں نماز ادا کرنے کےلئے کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر میں نے یہاں نماز پڑھ لی تو تم لوگ اس پر قبضہ کر لوگے جبکہ یہ یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔اس رواداری کو آج بھی سلام کیا جاتا ہے مات آیا صوفیہ کو کسی بھی معاہدے کے نام پر حاصل کرنے میں طاقت کا دخل تو ہوسکتا ہے مگر مذہب کا نہیں۔
اب ہم کاغذدکھائیں گے؟
آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کےلئے جو سب سے بڑا دعوی پیش کیا جارہا ہے وہ اس کے ”خریدے“ جانے کا ہے۔کہتے ہیں کہ سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو اپنی جیب سے رقم ادا کرکے خرید لیا تھا،سوال یہ ہے کہ تقریبا دو ماہ کے محاصرے،ہزاروں اموات اور درجنوں حملوں کے بعد فتحیاب ہوکر شہر میں ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ داخل ہوئے سلطان کو اپنی عبادت گاہ سونپنے کے علاوہ مفتوح لوگوں کے پاس کوئی اور چارہ ہو سکتا تھا؟کیا سلطان محمد فاتح کےلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ آیا صوفیہ کے آس پاس ہی ایک نئی مسجد تعمیر کرتے؟کیا وجہ تھی کہ ایک چرچ کو ہی مسجد میں تبدیل کیا ؟کیا اس کا مقصد مسلمانوں کی بالا دستی کی علامت بنانا تھا؟تاریخ یہ بیان کرتی ہے کہ 1453ءمیں قسطنطنیہ کی عظیم فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے آیاصوفیہ میں پناہ گزین عیسائیوں اورشاہی خاندان کے افراد کےلئے عام معافی کا اعلان کردیا جو یہاں آہ و فریاد کررہے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی جانوں کی خیر نہیں۔سلطان محمد فاتح جمعہ کے دن فجر کے وقت آیا صوفیہ میں داخل ہوا تھا، اس نے کہا کہ چوں کہ یہ شہر ہم نے حضرت عمرؓ کے عیسائیوں سے معاہدے کے تحت بیت المقدس حاصل کرنے کی طرح حاصل نہیں کیا بلکہ‘ لڑکر فتح کیا ہے اس لئے ہم عبادت گاہوں کے ضامن ہیں‘ ہم جمعے کی نماز یہاں ادا کریں گے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں کیا عیسائیوں کےلئے اس مطالبے کی مخالفت ممکن تھی؟
دلائل اور جواز کی سنامی
جو ہونا تھا ہو چکا ہے،دنیا کے سامنے صرف ایک راستہ رہ گیا ہے’بحث‘۔ہم سب اسی میں لگ چکے ہیں۔ترکی کے بخار میں مبتلا اب دلائل کا سیلاب لا رہے ہیں۔اس عمل کے صحیح یا غلط کا جواب دینے کے بجائے میڈیا سے سوشل میڈیا تک جو مہم چل رہی ہے اس میں یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ یہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔بتایا یہ جارہا ہے کہ ایسا اسپین میں مساجد کے ساتھ ہوچکا ہے۔عیسائی حکمران اسپین کے مختلف شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد بڑی بڑی مساجد کو چرچوں میں تبدیل کرچکے تھے۔ لیکن اس کے بر عکس سلطان فاتح نے زبردستی آیاصوفیہ پر قبضہ کرکے اسے مسجد میں تبدیل نہیں کیا، بلکہ خطیر مال صرف کرکے اسے پادریوں سے خریدا،سوشل میڈیا پر وہ دستاویزات عام ہوگئی ہیں جن میں خرید و فروخت کی تفصیلات مذکور ہیں۔یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ عیسائیوں کے یہاں اپنے چرچوں کو فروخت کردینا عام بات ہے۔ اس کا اب بھی رواج ہے۔ اچھی قیمت ملنے پر اپنی عبادت گاہوں کو فروخت کردینا ان کے نزدیک کوئی عیب نہیں۔ چنانچہ یورپ کے بہت سے چرچ شراب خانوں اور مال میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یعنی اگر اس معاملے میں قصور بنتا ہے تو ا ن عیسائی مذہبی رہنماوں کا جنہوں نے اپنی مرضی سے اپنی مذہبی عبادت گاہ کا سودا کرلیا۔مشورہ یہ بھی دیا جارہا ہے کہ پوپ فرانسس کو اس بات سے زیادہ پریشانی لاحق ہونی چاہیے تھی کہ امریکا اور یورپ میں سیکڑوں گرجا گھر فروخت ہوچکے ہیں، حاضری کم ہوتی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پادری بڑی تعداد میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور بہت سوں کو تو سزا بھی سنائی جاچکی ہے۔
کون سنتا ہے اس شور میں
آیا صوفیہ کے واقعہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں جوش بھر دیا ہے مگر کچھ لوگ ہیں جو ا س پر سوال اٹھا رہے ہیں،پوچھ رہے ہیں کہ کوئی بتائے گا کہ یہ اسلامی ہے یا نہیں ؟لیکن شور ایسا ہے کہ فی الحال قوم کچھ سننے کو تیار نہیں۔کیونکہ اردوغان نے کہہ دیا ہے کہ اگلی منزل ’قبلہ اول یعنی مسجد اقصی‘ ہے،مسلمانوں کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ کر اردوغان نے اپنی مقبولیت کو ”براق“ پر سوار کردیا ہے۔جو اس معاملہ میں انگلی اٹھا رہا ہے یا کوئی سوال کررہا ہے وہ قوم دشمن بنا دیا جارہا ہے۔یہ قوم کی مایوسی کا دور ہے جس میں آیا صوفیہ کا کارڈاسے ایک اور دلدل میں دھکیل چکی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ترکی کے دور خلافت پر ٹی وی سیریل ”ارتغرل غازی“کے بعد ”آیا صوفیہ“ دوسری ایسی ”خوراک“ ہے جو مسلمانوں کو کہیں نہ کہیں بھٹکا رہی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سعودی عرب اور ترکی میں عالم اسلام کی قیادت کی جنگ کا ایک حصہ ہے جس میں فی الحال ترکی کا سکہ چل رہا ہے لیکن عالم اسلام کے مسلمانوں کو اس بات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ قوم و ملت کے مسائل کا حل نہیں۔ایسے واقعات پر تالیاں بجا کر وہ صرف مہرا بن سکتے ہیں اور کچھ نہیں۔
در اصل یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری عیاں کرتا ہے۔ہماری سوچ کو مشکوک بناتا ہے۔کیا ہم تنگ ذہنیت کے مالک ہیں ؟کیا ہم کو ایسے لوگ ہی پسند ہیں جو ہمارے حق میں بولیں؟اگر ’ہندو تو‘ سوچ کے خلاف ہندو زبان کھولے تو وہ حق گو،اسے سلام کرنے کےلئے قطار لگ جاتی ہے۔ یہودی سوچ کے خلاف یہودی آواز اٹھا دے تو وہ روشن سوچ کا مالک ،کوئی عیسائی چرچ کے خلاف بے باکی کا مظاہرہ کردے تو بے خوف ،لیکن المیہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان نے اپنی قوم کے کسی فیصلے پر انگلی بھی اٹھا دی تو وہ ضمیر فروش ہو جاتا ہے۔یہی حالات ”آیا صوفیہ “کو دوبارہ مسجد بنائے جانے کے بعد پیدا ہو چکے ہیں۔
ایک بات تو واضح ہے کہ ایسے فیصلے خالص سیاسی ہوتے ہیں،ان پر جشن دنیا بھر میں مسلمانوں کےلئے مشکلات ہی پیدا کرسکتے ہیں۔اردوغان کی اپنی مجبوریاں ہیں ،وہ ملک میں بخاص طور پر استنبول میں سیاسی طور پر کمزور پڑے ہیں ،انہیں یورپی یونین میں شمولیت کا رقہ بھی نہیں مل سکا ہے،سعودی عرب سے ان بن اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،وہ عالم اسلام کی قیادت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں جو بہت ممکن ہے کہ یورپی یونین میں شامل نہ ہونے کی مایوسی باور جھنجھلاہٹ ہو۔ایسے میں اردوغان میں ’خلیفہ اور ترکی میں ’خلافت‘ کے سائے تلاش کرنے در اصل احمقوں کی جنت میں جی رہے ہیں کیونکہ سازشوں اور جوڑ توڑ کے اس کھیل میں ان کے خلیفہ بننے کے امکانات کم اور ”مرسی‘ بننے کے خدشات زیادہ ہیں۔










