*کریم رضا مونگیری*

 محسن صحافت“ کی رخصتی  
کریم رضا مونگیری’ صحافیوں کے پیارے‘ تھے، اب ’اللہ کو پیارے‘   ہوگئے ، دنیا کو’ الوداع ‘کہہ گئے،خوشیوں کے شہر کو ایک بڑا درددے گئے، بلاشبہ کلکتہ کی اردو صحافت کا ایک ستون گر گیا،ایک اور چراغ  بجھ گیا،ایک اور صحافی گزر گیا لیکن ہم اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو صحافت کا ایک’ سائبان ‘ نہ رہا ،وہ سائبان جس نے متعدد صحافیوں کو پناہ دی بلکہ ان کا دکھ درد زبانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پردور کیا۔ان کے ’اللہ والے“ ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ وہ ”استحصال‘ کے قائل نہیں تھے ،یہی وجہ ہے کہ وہ اردو صحافت سے زیادہ اردو صحافیوں کی خدمت کر گئے، وہ نہ ’فخر صحافت ‘کہلائے نہ ’بابائے صحافت‘ لیکن ان کی فراخ دلی انہیں کلکتہ کے لاتعداد اردو صحافیوں کےلئے ’بزرگ صحافت‘بنا گئی۔ایک ایسا انسان جو اردو صحافت میں تھا ، ایک اخبار کا مالک تھا اس کے باوجود’بڑے دل والا‘ تھا۔یہی تھی سب سے بڑی خوبی جس کےلئے اہل کلکتہ کریم رضا مونگیری کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے ۔’عکاس‘کے مدیر کی حیثیت سے کریم رضا مونگیری کا سب سے بڑا کارنامہ یہی رہا کہ کلکتہ کی سرزمین یہ اخبار پچھلے 55سال سے شائع ہورہا ہے۔روزنامہ عکاس نے ان کی ادارت میں گولڈن جبلی منایا۔ان کی موت کے ساتھ کلکتہ کی اردو صحافت اپنے ایک اور بزرگ سے محروم ہوگئی ،متعدد صحافیوں    کو’بے سہارا‘ کر گئی۔
صحافتی برادری انہیں ایک خوش مزاج انسان کے طور پریاد رکھے گی۔ ہنستا مسکراتا چہرہ،نہ کوئی تناﺅ اور نہ کوئی پریشانی۔ کسی سے ’تو تو ‘ اور نہ کسی سے ’میں میں‘۔نہ انداز مالکانہ اور نہ رویہ حاکمانہ۔ان کی سب سے بڑی دولت ’خوش مزاجی‘ ہی تھی،اس کے ساتھ نہ صرف ہر کسی کے درد کو سمجھنا بلکہ اس کا ’علاج‘ یا ’دوا‘بھی تلاش کرنا ان کی فطرت کا حصہ تھا۔یہ ایک ایسی خوبی ہوتی ہے،جو کسی انسان کو دنیا میں ’ہر دلعزیز‘ بنا دیتی ہے۔ ان کے سہارے بہت سے صحافی بے روزگاری سے روزگارتک پہنچ گئے اور کچھ زمین سے آسمان چھو گئے۔کوئی ساتھ چلا،کوئی آگے بڑھ گیا اور کوئی آتا جاتا رہا مگر کریم رضا مونگیری کی شفقت سب کے ساتھ جوں کی توں رہی۔جب ضرورت پڑی تو اپنی جیب کا ’لفافہ‘ دوسرے کی جیب میں ’منتقل‘ کردیا،وہ بھی ایسے کہ دوسرے ہاتھ کو اس کی بھنک نہیں ملی۔”مدد گار‘ کا کردار ارد صحافت میں ان کے شاہی مزاج کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔اردو صحافت میں ان کی سب سے بڑی’معذوری‘ یہ تھی کہ وہ ’استحصال‘کے فن سے نا واقف تھے مگر یہ معذوری یقینا ان کی جنت کی راہ کو آسان بنا گئی ہوگی۔
ایک دور میں جب کلکتہ کے اردو اخبارات میں ’سویت یونین ۔امریکا‘ کی طرزپر سرد جنگ جاری تھی اس وقت بھی کریم رضا مونگیری غیر جانبدار تھے،سب کے ساتھ تھے۔تناﺅ سے آزاد تھے۔میں نے 1995میں کلکتہ سے دلی کا رخ کیا تھا اس وقت تک میری اکثر ان سے ملاقات ہوتی تھی حالانکہ میں کبھی ’عکاس‘ سے وابستہ نہیں رہا، میرے والد مرحوم رئیس الدین فریدی کی بہت عزت کرتے تھے، میرے بہنوئی عبد السلام عاصم نے دلی منتقل ہونے سے قبل ’عکاس‘ سے وابستہ رہے تھے،اس کے ساتھ ان کے ایک قریبی دوست اور ’عکاس‘ کے صحافی ’محمد افضل‘ رپورٹنگ کے دوران ساتھ رہتے تھے۔ اس لئے میرا ’عکاس‘ میں آنا جانا رہتا تھا۔ یہ ان کی خاندانی رواداری کا نمونہ تھاکہ انہوں نے اس رشتے کو ہم لوگوں کے دلی منتقل ہونے بلکہ میرے والد کے انتقال کے بعد بھی نہیں توڑا۔چند سال قبل جب میرے والد کی آٹو بائیو گرافی‘کا رسم اجرا ہوا تو کلکتہ میں اس پروگرام کا تمام انتظا م خود کریم رضا مونگیری نے کیا تھا۔ المیہ یہ رہا تھا کہ میرے اہل خاندا ن تو کلکتہ پہنچ گئے تھے لیکن میں ’کمر‘ کی تکلیف کے سبب نہ پہنچ سکا۔جب میں نے اس پروگرام کے اخراجات کی ادائیگی کے بارے میں درخواست کی تو ادھر سے ’التجا‘ آگئی کہ ’کچھ حق میرا بھی ہے،مجھے اس سے محروم نہ کرو‘۔یہ اعلی ظرفی اوررواداری اب نا پید ہے ۔بات صرف مجھ تک محدود نہیں ،کلکتہ کے ایسے مزید صحافی ہیں جو کھل کر سامنے آئیں تو کریم رضا مونگیری کی ’فراخ دلی‘ کے قصے بھی ایک داستان کی شکل لے سکتے نہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہیں ’کڑوا‘ ہونے کے باوجود کریم رضا مونگیری نے ’شہد‘ کے طور پر قبول کیا۔کسی کا سہارا بنے تو کسی کے مددگار۔کسی کے رہبر تو کسی کے’سر پرست‘۔اردو صحافت کو انہوں نے کیا دیا اس کےلئے تو شاید سمینار ہوسکتے ہیں لیکن اردو صحافیوں کو کیا دے گئے ،یہ راز اس وقت ہی کھل سکیں گے جب خود کلکتہ کے صحافی ان کی فراخ دلی کے واقعات تحریر کریں گے جو شاید ان کےلئے سب سے شاندار ”خراج عقیدت“ہوگا۔
ایک تصویر حاضر ہے ۔۔1996کی ہے۔پارلیمنٹ اینک سی میں ایک کانفرنس کے دوران ۔میں ، بہنوئی عبدالسلام عاصم اور بہن ریحانہ فریدی ان کے )ساتھ تھے۔)


SEARCH / TALAASH

Total Pageviews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Back to TOP