موسیقی کو’ زندگی‘ کہتے ہیں،صدیوں پرانی ہے یہ’ زندگی۔اور یہ بھی جان لیں!اس دراز عمری کا سبب ہندوستان میں مسلمان بادشاہوں ،صوفیوں اور گھرانوں کی’ زندہ دلی‘ ہے۔جس نے اس موسیقی کو نہ صرف شباب بخشا بلکہ اس کو نئے رنگ دئیے،اس کو نئی بلندی دی اور اس کوسب کی زبان بنایا۔وہ زبان جس نے ہندوستان کو متحد کیا،رونق بخشی اور طاقت ور بنایا۔یہ بھی سچ ہے کہ یہ موسیقی جو کبھی مندروں میں قید تھی اور پنڈتوں کی غلام تھی اس کو مسلمانوں نے عوام تک پہنچایا۔لسانی مشکل میں موسیقی کو آپسی تال میل اور رابطہ کی زبان بنایا۔ان تاروں کو بکھرنے نہیں دیاجن کی ترنگ آج موسیقی کو آسمان چھوا رہی ہے۔ڈھولک کی اس تھپک کو کھونے نہیں دیا جو آف بھی دلوں کو دھڑکاتی ہے۔آج ہم جن نامو ںمیں موسیقی تلاش کرتے ہیں وہ اسی سرپرستی کی پیداوار ہیں جس نے موسیقی کو ہندوستان کی ملکہ مانا تھا۔  آج جو نام ہمارے سامنے ہیں اورجن کی موسیقی ہمارے کانوںمیں رس گھول رہی ہے ۔وہ اس برگد کے پتوں کی طرح ہیں جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔وہ جڑیں جن میں مغلوں نے پانی دیا جن میںصوفیوں نے کھاد ڈالی اور گھرانوں نے شاخیں پیدا کی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس موسیقی کا سفر صدیوں پرانا ہے،وہ امیر خسرو کی گود میں کھیلی اور مغل دربار وں میں پروان پاتی رہی۔صوفیوں کی تبلیغ کا حصہ بنی اور روحانیت کی سیڑھی۔اس موسیقی نے مغل بادشاہوں کے دربارپر حکمرانی کی اور اسی موسیقی نے صوفی بزرگوں کو ایک پہچان دی۔آج ہم جس موسیقی کے غلام ہیں اس نے بڑے بڑے بادشاہوں کواپنی دھنوں پر جھومنے پر مجبور کیا،بڑے بڑے صوفیوں نے اس کو اپنے کندھوں پر سوار کیا،جس کے بغیر صبح اور شام کا تصور نہیں تھا۔کسی نے نہیں دیکھا کہ یہ موسیقی کس کے آنگن میں پیدا ہوئی،بس سب نے اسے سینے سے لگا یا۔اس کی پھرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ،اس کو پروان دیا ۔اس کی ترقی کا انتظام کیا۔اس کو کبھی نئی شکل دی تو کبھی انداز اور کبھی نئی آواز۔موسیقی کے آلات کو سنوارا،ضرورت کے مطابق انہیںڈھالا تو کبھی کچھ نیا ایجاد بھی کیا۔موسیقی کی زندگی کو دراز کرنے کےلئے نئی تدبیریں تلاش کی گئیں۔                                        آگے پڑھئے ۔۔۔                                                                                                                        
  برگد کے پتے
20ویں صدی سے موجودہ دور میں پورے بر صغیر ہندوپاک میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان موسیقی کار اور ماہرین موسیقی چھائے ہوئے ہیں،جن کے نام دنیا میں چاند سورج کی طرح چمک رہے ہیں۔جنہیں کوئی استاد مانتا ہے تو کوئی بھگوان۔بیسویں صدی کے مشہور ماہرین موسیقی جن کا ہندوستان میں ڈنکا بجا ،ان میںوزیر مرزا قدرپیا، بندہ دین منے خاں، فضل حسین میاں علی، جان راحت حسین ،راحت حیدر جان، للن پیا ،اعظم پیا، فیاض خاں، ولایت حسین خاں، شفق اکبر آبادی ، استاد حافظ علی خاں۔ً عبدالکریم خاں، عبدالوحید خاں، امیر خاں، بڑے غلام علی خاں، احمد حسین ، بیگم اختر، برکت علی خاں، فیاض خاں، منصور نزاکت علی ، سلامت علی، محمد حسن، مہدی حسین، نصرت فتح علی خان ، غلام فرید صابری ،محمد رفیع وغیرہ جنہوں نے غزل، قوالی، شاستری سنگیت وغیرہ میں بڑا نام کمایا۔آلات موسیقی کے ماہرین کی بھی ایک بڑی تعداد ہندوپاک میں اپنا جادو جگائے ہوئے ہے جن میں احمد حسین ،علی اکبر خاں اللہ رکھا، ذاکر حسین خاں، علاو الدین خاں، امجد علی خاں، بسم اللہ خاں، حافظ علی خاں، عمران خاں ولایت خاںکے ساتھ ولایت خان ،شجاعت خان،اسد علی خان اور اے آر رحمان وغیرہ شامل ہیں۔
کسی نے تبلہ سے دل جیتا تو کسی نے سرود سے ۔کسی نے شہنائی سے اور کسی نے ستار سے۔
امیر خسرو کی امیری
امیر خسرو کو ہندوستان میں موسیقی کی روح مانا جاتا ہے ،جنہوں نے ہندوستانی موسیقی کو نئی زندگی دی،اس کو نئی شکل دی۔روایتی موسیقی میں ایرانی نغمات کو شامل کیا۔ ستار و طبلہ جیسے ساز ایجاد کئے۔ ستار میں بھی کچھ اضافے اور ترمیم کر کے اس کو چار تاروں والا آلہ موسیقی بنایا اور چاروں تاروں کے الگ الگ نام دیئے یعنی پہلے تار کو کویزر کہا دوسرے تار کا نام مثنیٰ رکھا تیسرے تار کو مثلث کہا اور چوتھے تار کا نام بیم رکھا۔ ستار طبل اور دف عربوں کی ایجاد ہے۔ مگر ایران میں جب ستار پہنچا تو سہ تار کہا گیا یعنی تین تاروں والا باجا۔ قوالی ،خیال، مندروں کی دھرپد،دربار کی دھرپدر،اگنیاں ایجاد کیں۔ اکبر کے دور میں موسیقی نے بہت ترقی کی اور تان سین جیسے فنکار کو دنیا نے دیکھا۔ نواب واجد علی شاہ کے دربار میں ٹھمری اور دادر ایجاد کی گئی۔ پنجاب میں غلام نبی شوری میاں نے راگنی پٹہ ایجاد کی۔ جے پور میں جب رجب علی خان بین کار اور بہرام خاں ماہر موسیقی مشہور ہوئے۔رام پور میں روشن خاں ڈاگر پیار خاں باسط خاں جعفر خاں صادق علی خاں جیسے استاد فن موجود تھے۔ نواب کلب علی خاں کے عہد میں بہادر حسین خاں، پیاز خان، امیر خاں، عنایت خاں، رحیم اللہ خاں، عظیم اللہ خاں، قطب بخش ، حیدر شاہ الفوزہ نواز اور بہت سے فنکار موجود تھے۔ ان کے علاوہ محمد حسین خاں وزیر خاں نبی بخش خاں بین کار عنایت حسین خاں نذیر حسین خاں فدا حسین خان ترودیئے بندہ خاں سارنگی نواز حفیظ خاں کریم خاں، ستار نواز بندہ ، دین محمد علی خاں صاحب ، زادہ حیدر علی خاں، صاحب زادہ سعادت علی خاں، سید سجاد حسین سوز خواں اور ٹھاکر نواب علی خاں وغیرہ موسیقی کے درخشندہ ستارے تھے جن کا تعلق دربار رام پور سے تھا۔
مغل سر پرستی کی کہانی
آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ موسیقی کو مغلوں نے شباب بخشا،کوئی بادشاہ ایسا نہیں گزرا جس کے دربار میں کوئی موسیقی کار نہ ہو۔ہر مسلم بادشاہ نے موسیقی کو فروغ دیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔
مغل بادشاہت کے بانی بابرکے دور میں موسیقی کو چار چاند لگے تو اس کا سہرا شیخ غران ،شیخ اذان ،خواجہ عبداللہ،شیخ نائی ،شیخ قلیغلام سعادی،میر انجو اور دیگر موسیقی کاروں کو بابر کی پشت پناہی حاصل تھی۔
میاں تان سین مغل بادشاہ اکبر اعظم کے دربار کے نو رتن میں ایک تھے۔حد تو یہ ہے کہ سخت گیر اور مذہبی مغل اورنگ زیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں موسیقی پر پابندی عائد کردی تھی کیونکہ اسلام میں موسیقی حرام ہے مگر متعدد تاریخ داں بشمول کتھرائن بٹلر شوفیلڈ کا مانا ہے کہ یہ انتہائی گمرا ہ کن پروپگنڈہ ہے۔خاتون تاریخ داں نے اپنی ایک ریسرچ ” کیا اورنگ زیب نے موسیقی پر پابندی عائد کی تھی“ میں اس بات کا دعوی کیا ہے کہ اورنگ زیب خود ایک با صلاحیت موسیقی کار تھا۔
شاہجہاں کے دربار میں بھی گانے والوں کی بڑی عزت تھی اور اس دور میں بھی موسیقی نے بڑی ترقی کی ا±س دور کا مشہور ماہر موسیقی جگن ناتھ نامی ایک شخص تھا جسے کوی راج کا خطاب ملا تھا۔ لال خاں جوتان سین کی اولاد میں سے تھا اور فن موسیقی کا بہت بڑا ماہر تھا اسے بھی بہت سے انعامات سے نوازا گیا تھا۔ ایک موقع جگن ناتھ اور لال خاں کو شاہجہاں نے ان کی مہارت فن کے صلے میں ان کے وزن کے برابر چاندی جس کی قیمت چار ہزار پانچ سو روپے ہوتی تھی، انعام دیا۔
اورنگ زیب نے موسیقی کاروں کو بہت سہولیات دی تھیں اور دربار میں بھی رکھا تھا بس اپنی زندگی کی آخری دہائی میں اورنگ زیب نے اپنے دربار سے موسیقی ختم کی تھی لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ اورنگ زیب نے کہا تھا کہ اسلام میںموسیقی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔اورنگ زیب کے دربار میں ہونے والی شاعری میں ہندو دیوتاﺅوں کا بھی ذکر ہوتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جونپور کے حکمراں حسین شاہ شارقی نے صبح کو راگ جونپوری کا آغاز کیا تھا۔ ’خیال‘ کا آغازامیر خسرو کے دور میں ہوا تھا جو صوفی خانقاہوں میں گایا جاتا تھا۔لیکن اس کو عروج یا شباب ملا مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلاکے دربار میں۔جہاں نعمت خان صدا رنگ نے اس کو نشہ بنا دیا تھا۔ ایک اور تاریخ داں الیسن باﺅچ نے اپنی کتاب ’پوئٹری آف کنگس‘ میں کہا ہے کہ مغل بادشاہوں نے موسیقی میں برج بھاشا کو بہت عروج بخشا۔اس سلسلے میں عبدالرحیم خان ءخانہ کا نام لینا اہم ہوگا جن کی برج شاعری میں ہندو بھگوانوں کرشن اور رادھا کی تعریف ہوا کرتی تھی۔بعد ازاں نظیر اکبر الہ آبادی نے ہندو تہواروں پر بھگوانوں کی تعریف میں شاعری کی۔دور جدید میں مولانا حسرت موہانی اور علامہ اقبال تک منے متھرا ،کرشنا اور رام جی کے قصیدے لکھے اور پڑھے۔ علا الدین خلجی سے محمد شاہ تک قریب سبھی فرمانراوں نے موسیقی کی سرپرستی کی اور اس طرح موسیقی نے مندروں میں پوجا پاٹ کے ساتھ دربار میں بھی رسائی حاصل کی۔
صوفیوں کا کردار
11ویں صدی میں جب مرکزی ایشیا سے اسلام کی تبلیغ کےلئے صوفی بزرگوں نے ہندو ستان کا رخ کیا توشمالی ہند میں ان کا پڑاﺅ تھا ۔اسی دور میںہندوستان میں موسیقی کے اداروں کاقیام شروع ہوگیا تھا۔جب عرب اور فارس کے باصلاحیت موسیقی کاروں نے ہندوستانی موسیقی کے ساتھ تال میل کرکے ماحول کو خوشگوار بنایا تھا ،دراصل اس وقت یہی موسیقی آپس کے پیغامات کا ذریعہ بنتی تھی اور اس سے عام آدمی روحانیت اور اخلاقیات کو زندہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب رہی۔ہندوستان میں دو بڑے صوفی گھرانے رہے ،ان میں ایک چشتی اور دوسرا سہروردی۔اس کے بعد حضرت نظام الدین کے ۔disciple۔۔ امیر خسرو کے دور میں موسیقی کو عروج ملا۔جنہوں نے موسیقی کو نئی بلندی دی تھی۔انہوں نے روایات کی منجیروں کو توڑا اور قول،قوالی ،قلبانہ ،نقش وگل اورنگار کو متعارف کرایا۔امیر خسرو نے موسیقی میں12مختلف دھنوں کو تیار کیا تھا۔بعدازاں جلال الدین خلجی کے دربار میں امیر خسرو کی غزلیں گائی جاتی تھیں۔امیر خسرو کی دین میں سے ’دھرو پد ‘ اور ’ خیال‘ اب بھی ہندوستانی موسیقی پر غلبہ رکھتی ہیں۔
گھرانہ کا خزانہ
بادشاہوں اور صوفیوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے سبب ہندوستان میں ’گھرانے نظام ‘ کا آغاز ہوا تھا ،جنہوں نے ملک میں موسیقی کو نیا پلیٹ فارم دیا،18ویں صدی میں اس کا آغاز ہوا تھا۔گوالیار،جے پور،آگرہ،کیرانا اور دلی میں ممتاز گھرانے ہیں ۔ان گھرانہ کا ایک اصول ہوتا ہے کہ کسی بھی نامور موسیقی کار کے روایتی انداز کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں بڑے ڈسپلن کے ساتھ گانے اور موسیقی کا استعمال ہوتا ہے۔ہندوستانی موسیقی می ترانا ،ٹھمری اور تھپابھی مقبول انداز ہیں جو مسلم موسیقی کارو ںکی دین ہے۔ترانا دراصل امیر خسرو سے جڑا ہے جبکہ نواب واجد علی شاہ نہ ٹھمری کو فروغ دیا۔تھپا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لکھنو کے شوری میاں کی دین ہے۔

SEARCH / TALAASH

Total Pageviews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Back to TOP