یکساں سول کوڈ                                       
 ہندو راشٹر کی جانب پہلا قدم                        


” طلاق “کی آگ ہندوستان کو جھلسا رہی ہے، مسلمان بہنوں کےلئے انصاف کی جنگ لڑنے کےلئے ایسا ’جن سیلاب ‘ امڈ آیا ہے جیسے کسی قدرتی آفت یا حادثے کے بعد خون کا عطیہ دینے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں،گھمسان مچا ہے،،مسلمانوں پر یلغار ہے،ہر کوئی میدان میں ہے ،کیا طلاق شدہ اور کیا شادی شدہ، کیادانشور اور کیا جاہل،جس کو جہاں ’دنگل ‘ مل رہا ہے گتھم گتھا ہو رہے ہیں،مذہبی معاملے پر سیاسی جنگ نے سب کو تقریبا اندھا کردیا ہے عقل سے،سب جذبات کے گھوڑوں پر سوارسر پٹ دوڑ رہے ہیں ،لڑ رہے ہیں ،ایک دوسرے کا منھ نوچنے کےلئے تیار ہیں ۔مگر جنہوں نے طلاق کی’ پھلجھڑی ‘جلائی ہے وہ کسی اور سوچ میں غرق ہیں کیونکہ ان کا مشن مسلمان خواتین کی حق کی لڑائی نہیں ،کسی مسلمان کےلئے تو طلاق ایک عذاب یا نجات ہو سکتی ہے لیکن طلاق کے گھوڑے پر سوار سیاستدانوں کےلئے سیاسی منزل پانے کےلئے ایک سواری ہے اور یہ منزل ہے ”ہندو راشٹر“یعنی طلاق کے نام پر پہلے’ یکساں سول کوڈ ‘کا نفاذ اور پھر ایک جھٹکے میں ہندو راشٹر کے خواب کی تکمیل۔ اس میں مسلمانوں کو اس بات کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ان طاقتوں کو طلاق میں دلچسپی ہے نہ مسلم خواتین میں،یہ اسلام پھر حملہ کررہے ہیں نہ قرآن پر،ان کا مقصد ہے ملک کو 2019کے عام چناﺅ سے قبل یہ پیغام دینا کہ حکومت ہندو راشٹر بنانے کےلئے سر گرم ہے جس کے پہلے دو قدم ہونگے یکساں سول کوڈ اور رام مندر ۔یکساں سول کوڈ کا معاملہ تو اب طلاق کے نام پر لڑا جارہا ہے اور رہی بات رام مندر کی تو بات چیت یا عدالت کے سہارے اس کا راستہ بھی صاف ہوجائے گا۔
قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے دو کام ہی ٹیڑھے ہیں اگر ان میں کامیابی مل گئی تو ہندو راشٹر بنانے کا اعلان کرنا اس لئے بھی مشکل نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ نے”ہندو توا “ کو مذہب نہیں ایک ’تہذیب ‘مانا ہے اور ایک اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے پر بھگوا قیادت نے کبھی گول مول بات نہیں کی ہے سب نے ڈنکے کی چوٹ پر اس عزم کا اظہار کیا ہے۔لڑائی طلاق کے نام پر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا ہے اور رام مندر کی تعمیر کا ،اس کے بعد بی جے پی کے سامنے مسئلہ رہ جائے گا آرٹیکل 370کا،جس وقت اور سیاست کے بدلتے رنگ کے سبب اگر غائب ہوگیا تو حیرت نہیں ہوگی۔ایک بات واضح ہے کہ آر ایس ایس طے کر چکا ہے کہ 2019 میں بی جے پی کی اقتدار میں واپسی کے بعد وہ ہندوستان کو ہندو راشٹربنانے کا اعلان کرائے گا۔اس معاملے پر سب ایک زبان ہیں کیاآرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ہوں اور کیااتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ،ان کا دعوی ہے کہ ہندو راشٹر کا تصور غلط نہیں ہے،اس میں کوئی برائی نہیں۔کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے۔اب مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ طلاق کا معاملہ ہو یا رام مندر کا سب سیاسی کھیل کا حصہ ہیں۔اس لئے حیران ہوں نہ پریشان بلکہ چوکس رہیں ،بیدار رہیں ،ہوشیار رہیں ۔اس بہانہ یکساں سول کوڈ کو دعوت دینے کی کوشش کی کی ہوا خود مسلمانوں کو نکالنی ہوگی تاکہ حکومت اس کو بھنا نہ سکے۔
مقصد سیاسی ہے۔۔
ایک بات اور واضح ہونی چاہیے کہ جو کچھ ہورہا ہے اس کا ایک سیاسی مقصد ہے،سیاسی تصور ہے،اس کا مقصد اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا نہیں،وزیراعظم نریندر مودی ہوں یا یوگی آدتیہ ناتھ سب اقلیتوں کو تحفظ دینے کے حق میں ہیں،بس نشانہ ہندوراشٹر کا ہے۔بی جے پی بھی جانتی ہے کہ مشن اتنا آسان نہیں،اس لئے داﺅ پینچ جاری ہیں،کہیں جال بننے جارہے ہیں اور کہیں بچھائے جا رہے ہیں۔جس میں بی جے پی کے ساتھ یا پیچھے آر ایس ایس ہے،جس کا دماغ دوڑ رہا ہے اوربی جے پی کو دوڑا رہا ہے۔ سچر کمیٹی کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس راجندر سچر نے بھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ”2019 میں ہندوستان کو ہندو راشٹر کا اعلان کرانے کی آر ایس ایس کوشش کرے گا۔ مگریہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا ، کیونکہ بہت سے ہندو بھی اس کی مخالفت کریں گے نہ صرف مسلمان بلکہ سکھ اور عیسائی بھی نہیں چاہتے ہیں کہ ملک ہندو راشٹر بنے ، اس لئے آر ایس ایس کی راہ کافی مشکل ہوگی“۔جسٹس سچر نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک اشارہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیر اعلی بنایا جانا ہے، یہ آر ایس ایس کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے، ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ مودی صرف چہرہ ہیں۔ جسٹس سچر نے کہا کہ آر ایس ایس طے کر چکا ہے کہ 2019 میں بی جے پی کی اقتدار میں واپسی کے بعد وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر اعلان کرائے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس خطرے کو بھانپ نہیں پا رہی ہیں۔جسٹس سچر نے کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنانے کے اشارے کو گہرائی سے دیکھنا چاہیے۔ سچر نے کہا کہ سارے ہندووںکا آر ایس ایس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہندووں کی مختلف ثقافت، روایت اور کھانے پینے کی عادت ہیں۔ جسٹس سچر کے مطابق آر ایس ایس اتر پردیش میں ملی جیت کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی نظر میں ملک کے قومی اتحاد اور یکجہتی کیلئے یونیفارم سول کوڈ لازمی ہے۔ تو پھر ملک میں مختلف ریاستوں اور علاقوں میں مختلف قوانین نافذ العمل کیوں ہیں؟۔ 1954 میں ہندو کوڈ بل نافذ کیا گیا۔ اسکے باوجود ہندووں میں شادی بیاہ ،طلاق اور تفریق ازواج کے مختلف ممالک میں مختلف مسالک اور آپسی شدید تضادات پائے جاتے ہیں۔ ان میں آپس میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ کی ہر ریاست میں انکے اپنے مقامی نجی، طلاق اور تنسیخ نکاح کے قوانین نافذ ہیں۔ اسی طرح برطانیہ اور آئرلینڈ میں بالکل مختلف مذہبی اور نجی قوانین نافذ ہیں۔ اس سے قومی اتحاد و یکجہتی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔سوائے مسلم پرسنل لا کو چھوڑ کر 99% قوانین تمام مذاہب اور طبقات کے ماننے والوں کیلئے یکساں ہیں۔ سب ہندوستانی بصد احترام ان قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ قومی یکجہتی کیلئے ہمارا دستور کافی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صرف ہندو راشٹر بنانے کےلئے یکساں سول کوڈ کے نفاذاور رام مندر کی تعمیر کے ساتھ آرٹیکل370کے خاتمے کی راہ میں حاہل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے ان کے پیچھے چھپا ہے ہندو راشٹر کا اصل مقصد۔
ہندو راشٹرپرسب ایک زبان ہی۔۔
ہندو راشٹر کے معاملے میں کچھ ڈھکا چھپا نہیں،سب کھلی کتاب ہے،اس معاملے میں بھگوا لیڈر ایک رائے ہیں اور اس کا اظہار کر کرتے ہیں،اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ایک سے زائد مرتبہ بھارت کو ہندو راشٹر قراردے چکے ہیں،کیا اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور کیا لال کرشن آڈوانی سب کا کہنا ہے کہ ہندو راشٹر کا تصور غلط نہیں ہے۔اس میں کیا برائی ہے یہ بتایا جائے۔کیا دنیاکے 55اسلامی ممالک میں دیگر مذاہب کے لوگ نہیں رہتے ہیں؟بھاگوت کا کہنا ہے کہ ”یہاں کا ہرباشندہ بنیادی طورپر ہندو ہے“۔ اس سے اگلاجملہ وہ فی الحال نہیں بول رہے لیکن ان کے ساتھی قراردے چکے ہیں کہ بنیادی طور پر ہر ہندوستانی ،ہندوباشندہ ہے، چاہے وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو، اسے بہرصورت واپس ہندو بنناہوگا۔
آرایس ایس کی ذیلی تنظیم وشواہندوپریشد کے جنرل سیکرٹری اشوک سنگھل نے ایک وقت کہا تھا کہ۔۔” ہندوستان میںآٹھ سو سال بعد ہندوو ¿ں کا راج قائم ہواہے اور اس عرصے میں پہلی بار ہندوو ¿ں کے لئے فخر کی علامت ایک سوئم سیوک کو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے کا موقع ملا ہے“۔۔
وشواہندوپریشد کہتی ہے اگرمسلمان اس ملک میں عزت چاہتے ہیں تو انھیں ہندو بن کر رہناہوگا۔ بی جے پی کے ایم پی سبرامینین سوامی کا کہناہے کہ” مسلمان تسلیم کرلیں کہ وہ ہندوآبا واجداد کی اولاد ہیںہندوستان میں رہنے والا ہرمسلمان صرف ہندوستانی ہے جسے کوئی نمایاں مقام نہیں دیاجائے گا۔
پچھلے سال سرکاری ملازمین کو راشٹریہ سیوک سنگھ (آرایس ایس) کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دیدی گئی لیکن درحقیقت اس فیصلے کے ذریعے سرکاری ملازمین سے کہاگیا کہ انھیں بہرصورت آرایس ایس میں شامل ہوناہے اور سرگرم ہوناہے۔اس کا آغاز چھتیس گڑھ ریاست سے کیاگیاتھا جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ 11برس سے برسراقتدارہے۔ اگرچہ بھارت میں افسرشاہی کا بڑا حصہ آر ایس ایس کے رنگ میں رنگا ہواہے۔ جس پر ہندوتوا کا رنگ نہیں چڑھا، وہ آرایس ایس کی مقامی شاخوں کے احکامات ماننے پر مجبورہے۔یاد رہے کہ دنیا کے ہرمعاشرے میں سرکاری ملازمین اور افسران پر کسی بھی سیاسی جماعت کا ممبربننے یا اس کے پروگراموں میں شریک ہونے پر پابندی عائد ہوتی ہے حتیٰ کہ سرکاری قوانین کے مطابق وہ عوامی سطح پر اپنی سیاسی رائے کا اظہاربھی نہیں کرسکتے۔مگر اب ملک بدل رہاہے،سوچ بدل رہی ہے اس لئے سرکار کا انداز اور مزاج بھی بدل رہا ہے۔
ہوا نکال دیں مسلمان
 مسئلہ مسلمانوں کا ہے کیا کریں اور کیا نہیں ،حکومت نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کےلئے مسلمانوں میںبکھراﺅکا انتظام کرادیا ہے ،اس لئے مسلمانوں کو بہت سوچ سمجھ کرقدم اٹھانے ہونگے،جذبات سے دور رہ کرسوچنا ہوگا ،کسی کا مہرہ نہیں بنناہوگا،بھگوا طاقتوں نے ایسی تدبیر کی جو مسلمانوں کو منتشر کردے، غیر مسلموں کو ان کے خلاف کردے جس کی طرف عوام وخواص متوجہ ہوں، ان کے جذبات بھڑک اٹھیں تاکہ نام نہاد سول کوڈ یعنی لامذہبیت کا نفاذ آسان ہوجائے۔’نئی دنیا‘نے اس سلسلے میں کئی علما اور دانشوروں سے بات چیت کی جن کا ماننا ہے کہ مسئلہ طلاق نہیں،اس کی آڑ میں جو بڑے خطرے منھ پھاڑے کھڑے ہیں ان کا سامنا کرنا زیادہ اہم ہے اس لئے حکومت یا عدالت سے قبل خود مسلمان اس تنازعہ کو طلاق ثلاثہ کا خاتمہ کرکے دفن کر سکتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو سیاست کے دنگل میں یہ سورما منھ کے بل گر جائیں گے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ علماءطلاق پر ایک واضح موقف لیںنہ کہ اس کی مخالفت کرنے میں مصروف ہوکر بی جے پی کے ہاتھوں کا کھلونا بنیں،اس وقت تو مسلمان لیڈر وہی کررہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے۔اس لئے ہوش سے کام لیں ،ہر چناﺅ کے بعد اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ بی جے پی کی حکمت جیت گئی پھر یہ کام ہم کیوں نہیں کر سکتے ؟شرط بس یہی ہے کہ گلا پھاڑ کر چیخنے کے بجائے دماغ کا استعمال کریں،ساتھ ہی ضرورت تو اس بات کی بھی ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جو مذہب سے ناواقفیت کی زندگی گذار رہا ہے، اسے یہ سمجھایا جائے طلاق کھیل نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے جس کا استعمال بوقت ضرورت ہی کیا جائے۔مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ طلاق تو صرف ایک بہانہ ہے بی جے پی کا نشانہ اس سے کہیں بڑا ہے،جس پر مسلم خواتین کے کندھے پر بندوق رکھکر نشانہ لیا جارہا ہے۔

SEARCH / TALAASH

Total Pageviews

Contact Form

Name

Email *

Message *

Back to TOP